منگل‬‮ ، 24 فروری‬‮ 2026 

’’شوگر کمیشن کی طرف سے 9 بے نامی اکاؤنٹس کی تفصیلات ۔۔‘‘ چینی کی فروخت اصل خریداروں کی بجائے کن لوگوں کے نام پر کی جاتی رہی قومی خزانے کو بھاری چونالگا یا گیا ،تہلکہ خیز انکشافات

datetime 24  اپریل‬‮  2020 |

لاہور(آن لائن)وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو ابتدائی طور پرآ ج ہفتہ کو شوگر انکوائری کمیشن کی طرف سے منتخب کردہ 9 شوگر ملز کے خلاف جاری تحقیقات کے بے نامی اکاؤنٹس کی تفصیلات پیش کیے جانے کا امکان ہے۔انکوائری کمیشن کے ذرائع نیایک نجی ٹی وی کو بتایا ہے کہ ممکنہ طور پر شوگر کمیشن 25 اپریل تک وزیر اعظم کو منتخب کردہ 9 شوگر ملز کے بے نامی اکاؤنٹس کی رپورٹ پیش کرے گا

اور باقی پہلوؤں بارے رپورٹ مکمل کرنے کے لئے کچھ دن کی مہلت کی درخواست کی جاسکتی ہے کیونکہ ان کے متعلق تحقیقات حتمی مراحل میں داخل ہوگئی ہیں۔ذرائع کے مطابق، اب تک کی تحقیقات میں کئی چشم کشا انکشافات سامنے آئے ہیں جن میں اکثر شوگر ملز کی جانب سے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ رکھنے کی بجائے مینوئل طریقے سے رکھنے کی بات سامنے آئی ہے۔ کمیشن نے اس بات کا بھی پتہ چلا لیا ہے کہ چینی مالکان نے مبینہ طور پر اصل خریداروں کو بھی چھپایا ہے جو ابھی تک سامنے نہیں لائے جاسکے۔کمیشن کے مطابق، چینی کی فروخت اصل خریداروں کی بجائے ٹرک ڈرائیوروں کے نام پر ہو رہی تھی جس سے مبینہ طور پر قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچایا جا رہا تھا۔ کمیشن نے ایسے تمام بے نامی خریداروں کا سراغ لگا لیا ہے اور ان کے خلاف اب ایف بی آر بھی الگ سے حرکت میں آگیا ہے۔ کمیشن نے اپنی تحقیقات کے دوران منتخب کردہ تمام ملز پہ چھاپے مار کر تمام ریکارڈ قبضے میں لیا ہوا ہے جس کی چھان بین سے ان سب باتوں کا پتہ چل رہا ہے۔ کمیشن نے قبضے میں لئے ہوئے کمپیوٹرز سے ڈیلیٹ کیا ہوا ڈیٹا بھی دوبارہ حاصل کرلیا ہے۔ذرائع کے مطابق اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ کمیشن نے سستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مبینہ طور پر ابتدائی تحقیقات کے دوران فیلڈ وزٹ دیر سے شروع کی جس سے بہت سا ریکارڈ جو کہ بڑا کارآمد ہوسکتا تھا وہ قبضے میں نہیں لیا جاسکا۔ مثال دیتے ہوئے ذرائع نے بتایا کہ تمام تحقیقاتی ٹیموں نے اپنے فیلڈ وزٹ 20 سے 21 مارچ کے دوران کئے تاکہ گنے کی کسانوں سے خرید، تول اور چینی بننے کے مراحل کو دیکھا جاسکے لیکن 11 مارچ تک گنے کا کرشنگ سیزن ہی ختم ہوچکا تھا۔کمیشن کے ذرائع کے مطابق، جو چینی گزشتہ سالوں میں برآمد کی گئی ہے اس کی 70 فیصد افغانستان کو بیچی گئی ہے جسے تفتیش کار اس نظر سے دیکھ رہے ہیں کہ آیا وہ چینی واقعی افغانستان بھیجی بھی گئی تھی یا یہاں لوکل مارکیٹ میں فروخت کر دی گئی تھی۔ تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کچھ ملز نے مبینہ طور پر اپنا ڈیٹا چھپانے کی کوشش کی ہے جس کی مزید تفتیش ابھی جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…