بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

مئی کا آخر اور جون کی شروعات پاکستانیوں کیلئے تبا ہ کن ، حکومتی سطح پر خوفناک خطرے سے قوم کو آگاہ کردیا گیا

datetime 22  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد ( آن لائن )وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان میں ابھی کورونا وائرس اس بلند ترین سطح پر نہیں پہنچا جو غالباً مئی کے آخر اور جون کے شروع میں متوقع ہے۔ ہمیں تیار رہنا چاہیے کہ ابھی کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو گا اور اموات کی شرح میں اضافہ بھی خارج از امکان نہیں۔

آج ہم ایک ایسی صورت حال سے دوچار ہیں جہاں ایک طرف ہمیں اس کورونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنا ہے اور دوسری طرف ہمیں غریب طبقے کو بھوک سے بچانا ہے ہمیں اس حوالے سے ہرحال میں توازن برقرار رکھنا ہوگا، پاکستان میں ابھی کورونا وائرس اس بلند ترین سطح پر نہیں پہنچا جو غالباً مئی کے آخر اور جون کے شروع میں متوقع ہے۔وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے،ہم مستقل لاک ڈاؤن نہیں کرسکتے، ہمیں تمام عوامل کو پیش نظر رکھتے ہوئے لائحہ عمل مرتب یا تبدیل کرتے رہنا ہوگا، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جلد وطن واپسی کیلئے ہم وزارت اورسیز پاکستانیز، وزارت ہوا بازی سمیت تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر مشترکہ کاوشیں بروئے کار لا رہے ہیں، اس وقت ہزاروں پاکستانی، وطن واپسی کے منتظر ہیں، ہمیں ان کی تکالیف کا مکمل احساس ہے اور انہیں وطن واپس لانا ہماری ذمہ داری ہے لیکن ہمیں اپنی استعداد کار کو بھی دیکھنا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پہلے ہم 2000 پاکستانیوں کو ہر ہفتے وطن واپس لا رہے تھے اب زیادہ ایئرپورٹس کھلنے اور ہماری ٹسٹنگ کی استعداد بڑھنے کے سبب اب ہم 6000 سے زائد پاکستانیوں کو بیرونی ممالک سے واپس لاسکیں گے اور انہیں ٹسٹنگ اور کوارنٹائین کی سہولیات فراہم کر سکیں گے، اس وقت صورتحال غیر واضح ہے کیونکہ جیسے جیسے کرونا ٹیسٹنگ کی شرح بڑھے گی ویسے ویسے صورتحال واضح ہوتی چلی جائے گی، یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص کورونا کیریئر ہو اور اس کو علامات ظاہر نہ ہوں اور وہ کورونا فری بھی ہو جائے، ہمیں لوگوں کو اس وبا سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ترغیب بھی دینی ہے اور یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ بے جا خوف و ہراس نہ پھیلے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…