منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

مئی کا آخر اور جون کی شروعات پاکستانیوں کیلئے تبا ہ کن ، حکومتی سطح پر خوفناک خطرے سے قوم کو آگاہ کردیا گیا

datetime 22  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد ( آن لائن )وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان میں ابھی کورونا وائرس اس بلند ترین سطح پر نہیں پہنچا جو غالباً مئی کے آخر اور جون کے شروع میں متوقع ہے۔ ہمیں تیار رہنا چاہیے کہ ابھی کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو گا اور اموات کی شرح میں اضافہ بھی خارج از امکان نہیں۔

آج ہم ایک ایسی صورت حال سے دوچار ہیں جہاں ایک طرف ہمیں اس کورونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنا ہے اور دوسری طرف ہمیں غریب طبقے کو بھوک سے بچانا ہے ہمیں اس حوالے سے ہرحال میں توازن برقرار رکھنا ہوگا، پاکستان میں ابھی کورونا وائرس اس بلند ترین سطح پر نہیں پہنچا جو غالباً مئی کے آخر اور جون کے شروع میں متوقع ہے۔وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے،ہم مستقل لاک ڈاؤن نہیں کرسکتے، ہمیں تمام عوامل کو پیش نظر رکھتے ہوئے لائحہ عمل مرتب یا تبدیل کرتے رہنا ہوگا، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جلد وطن واپسی کیلئے ہم وزارت اورسیز پاکستانیز، وزارت ہوا بازی سمیت تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر مشترکہ کاوشیں بروئے کار لا رہے ہیں، اس وقت ہزاروں پاکستانی، وطن واپسی کے منتظر ہیں، ہمیں ان کی تکالیف کا مکمل احساس ہے اور انہیں وطن واپس لانا ہماری ذمہ داری ہے لیکن ہمیں اپنی استعداد کار کو بھی دیکھنا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پہلے ہم 2000 پاکستانیوں کو ہر ہفتے وطن واپس لا رہے تھے اب زیادہ ایئرپورٹس کھلنے اور ہماری ٹسٹنگ کی استعداد بڑھنے کے سبب اب ہم 6000 سے زائد پاکستانیوں کو بیرونی ممالک سے واپس لاسکیں گے اور انہیں ٹسٹنگ اور کوارنٹائین کی سہولیات فراہم کر سکیں گے، اس وقت صورتحال غیر واضح ہے کیونکہ جیسے جیسے کرونا ٹیسٹنگ کی شرح بڑھے گی ویسے ویسے صورتحال واضح ہوتی چلی جائے گی، یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص کورونا کیریئر ہو اور اس کو علامات ظاہر نہ ہوں اور وہ کورونا فری بھی ہو جائے، ہمیں لوگوں کو اس وبا سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ترغیب بھی دینی ہے اور یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ بے جا خوف و ہراس نہ پھیلے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…