اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

مفرور بھارتی ارب پتی بی آر شیٹی کا امارات واپسی کا دھماکہ خیز اعلان

datetime 19  اپریل‬‮  2020 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت کے ایک مفرور ارب پتی باوا گوٹھو رگھو رام شیٹی عرف بی آر شیٹی جن کے برطانیہ کی ایک عدالت میں فراڈ سے متعلق کیسز چل رہے ہیں نے کہا ہے کہ وہ فروری میں ذاتی مصروفیات کیلیے بھارت آئے تھے۔ کرونا کی وبا ختم ہونے کے بعد وہ متحدہ عرب امارات لوٹیں گے۔عرب ٹی وی کے مطابق بھارتی ارب پتی بی آر شیٹی این ایم سی نامی ایک ہیلتھ گروپ کے بانی ہیں اور ان پر

برطانیہ میں فراڈ اور فوج داری نوعیت کے مقدمات چل رہے ہیں۔بی آر شیٹی نے ابتایا کہ میں ذاتی وجوہات کی بنا پر 7 فروری کو منگلور آگیا تھا تاکہ کچھ وقت اپنے کینسر کا شکار بھائی کے ساتھ وقت گذار سکوں۔ تاہم میرے بھائی 82 سال کی عمر میں رواں ماہ انتقال کرگئے تھے۔ میرے بھائی بیمار تھے اور میں ان سے ملنے انڈیا واپس آیا تھا۔ کرونا کی وبا ختم ہوتے ہی واپس امارات آئوں گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت صرف کرونا کی وجہ سے سفر نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ مجھ پر کوئی دوسری سفری پابندی نہیں۔ میں اس وقت صرف اپنی اہلیہ کے ساتھ بھارت میں ہوں جب کہ میرا بقیہ خاندان ابوظبی میں ہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل سامنے آنے والی بعض میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ بی آرشیٹی لندن میں قانونی چارہ جوئی سے فرار اختیار کرتے ہوئے بھارت پہنچ گئے تھے۔ ان رپورٹس پر شیٹی نے کہا تھا کہ میں نے اپنی ذات اور اپنی کمپنی کے حوالے سے عاید الزامات پر خاموشی اختیار کی تھی۔ میں نے کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ میں خود بھی حقائق سے آگاہ نہیں اور مجھے کوئی پتا نہیں کہ کیا ہوا تھا۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…