اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر ، کورونا ریڈزون علاقوں کی تعداد 80ہو گئی، بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار کشمیری مزید خوف و دہشت میں مبتلا

datetime 18  اپریل‬‮  2020 |

سرینگر (این این آئی)مقبوضہ وادی کشمیر میں کورونا ریڈ زون علاقوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یہ تعداد بڑھ کو 80ہو گئی ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس کے نتیجے میں پہلے سے بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار کشمیری مزید خوف و دہشت میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔ وادی میںکورونا پازیٹیو کیسز میں مسلسل تیزی اور اموات کے سبب صورتحال انتہائی پریشان کن ہو رہی ہے۔

قابض انتظامیہ نے تمام ریڈ زونز کے تمام داخلی و خارجی راستے مکمل طور پر سیل کر دیے ہیں اور بھارتی فورسز نے جگہ جگہ ناکے لگا رکھے ہیں۔ قابض بھارتی فورسز اہلکار پابندیوں کی خلاف ورزیوں کرنے والوں کو فوری طور پر گرفتار کرنے کے علاوہ انکے خلاف مقدمات بھی درج کر لیتے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ریڈ زوں والے علاقوں میں 42دنوں تک سخت ترین بندشیں عائد رہیں گی اور اگر کورونا کا کوئی نیا کیس سامنے آتا ہے اس صورت میں مذکورہ علاقے مزید 42دنوں تک سیل رہیں گے۔دریں اثنا بھارتی پولیس نے پابندیوں کی خلاف ورزی پر سرینگر، بڈگام اور بانڈی پورہ کے علاقوں سے بیسیوں افرادگرفتار کر لیے ہیں۔ سرینگر کے علاقے بٹوارہ سونہ وار سے نماز جمعہ باجماعت ادا کرنے پر امام مسجد سمیت20 افراد ، خانصاحب بڈگام میں 2افراد کو بلا وجہ گھر سے باہر نکلنے جبکہ ضلع بانڈی پورہ کے علاقے سمبل سے نما ز جمعہ باجماعت ادا کرنے کی پاداش میں امام مسجد سمیت 16افراد گرفتار کر لیے گئے۔تمام گرفتار افراد کیخلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ ادھر مقبوضہ علاقے میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 3سو 33تک پہنچ گئی ہے۔ کل 333کیسز میں 260وادی کشمیر،54جموں جبکہ 19لداخ میں موجود ہیں۔ مہلک وائرس کے سبب مقبوضہ علاقے میں اب تک پانچ افراد جان کی بازی ہارچکے ہیں۔ ‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…