جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

پانچ ہزار امریکیوں کا وائرس کے حوالے سے چین کے خلاف مقدمہ دائر

datetime 11  اپریل‬‮  2020 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی شہریوں نے کرونا وائرس کے حوالے سے چین کے خلاف مقدمہ دائرکردیا،ایک ماہ سے بھی کم عرصے کے دوران، پانچ ہزار سے زیادہ امریکی چین کی حکومت کے خلاف کرونا وائرس سے پہنچنے والے نقصان کے ازالے کیلئے فلوریڈا کی ایک عدالت میں دائر دعوے میں شامل ہوگئے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق مدعا علیہان نے کہاکہ

کرونا وائرس کو قابو میں رکھنے میں چین کی لاپرواہی سے انہیں بڑے نقصان کا سامنا ہے۔ اسی قسم کے دعوے ریاست نیواڈا اور ٹیکساس میں بھی دائر کئے گئے ہیں۔ریاست فلوریڈا میں دعوی دائر کرنے والے برمین لا گروپ نے کہا کہ ہمارا دعوی ان افراد سے متعلق ہے جنہیں کرونا وائرس سے بیمار ہونے کی وجہ سے جسمانی نقصان پہنچا ہے یا چین کی گوشت کی مارکیٹس کی سرگرمیوں کی وجہ سے، یعنی ایسے بازار جہاں کھلے میں گوشت، مچھلیاں اور سبزیاں فروخت ہوتی ہیں، نقصان پہنچا ہے۔اس لا فرم نیچین کے خلاف فارن سوورینٹی ایمیونٹییز ایکٹ کے تحت پرسنل اِینجری اور اقتصادی سرگرمیوں میں رکاوٹ کو بنیاد بناتے ہوئے قانونی نکات اٹھائے ہیں تاہم، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ہیسٹنگز لا کالج کے پروفیسر شی مینے کیٹنر اِن قانونی نکات سے متفق نہیں ہیں۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…