جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

امریکی صدر ٹرمپ کی خیراتی امداد کی ضرورت نہیں، ایران نے انتہائی سخت جواب دے دیا

datetime 8  اپریل‬‮  2020 |

واشنگٹن/تہران (این این آئی)ایران اور امریکا کے درمیان محاذ پرجنگ ہو نا ہو مگر سوشل میڈیا پر لڑائی روز جاری رہتی ہے۔ دونوں ملکوں کی طرف سے ایک بار پھرایک دوسرے پرالزام تراشی اور ایک دوسرے پر لفظی حملوں میں شدت دیکھنے میں آئی ہے۔

عرب ٹی وی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ٹویٹرپر ایک ٹویٹ میں کہا کہ ایران کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خیراتی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا امریکا سے چاہتے ہیں کہ وہ ایرانی تیل فروخت کرنے میں رکاوٹ نہ ڈالے۔جواد ظریف کے بیان پر امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹاگوس نے جوابی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایرانی عوام کی مدد کرنا چاہتا ہے اور اس کے پاس کوئی دوسرا پروگرام نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ ایرانی حکومت امریکا سے دشمنی کے بجائے اپنے عوام کی مدد کرے گی۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جب دونوں ممالک کے عہدیدار ایک دوسرے پر گرج برس رہے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف اور امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان اورٹاگوس کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اورٹاگوس سے کہا تھا کہ وہ جھوٹ بولنا اور چوری کرنا بند کریں۔ انہوں نے امریکار پر ایران میں کرونا پھیلانے میں ملوث ہونے کا الزام عایدکرتے ہوئے کہا کہ امریکا طبی دہشت گردی کا مرتکب ہو رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…