منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

کیا ماسک پہن کر آپ کرونا وائرس سے محفوظ ہوگئے؟ عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر کی پریس کانفرنس کے بعد نئی بحث چھڑ گئی

datetime 7  اپریل‬‮  2020 |

نیویارک(این این آئی)عالمی ادارہ صحت نے متنبہ کیا ہے کہ کرونا وائرس کے وباء پر قابو پانے کے لیے صرف ماسک کا استعمال ہی کافی نہیں ہے۔ اس بیماری نے اب تک 70 ہزار افراد کی جان لے لی ہے۔ اس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ بیماری سے بچنے کے لیے ماسک کافی ہیں۔

میڈیارپورٹس کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹائڈروس اڈھانم گیبری سوس نے ایک ویڈیو کانفرنس میں کہا کہ ماسک کو صرف حفاظتی اقدامات کے پیکیج شامل ایک جزو کے طوپراستعمال کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کی ماسک کا استعمال اسی وقت مناسب ہے جب ہاتھ دھونے یا سماجی فاصلہ ممکن نہ ہو۔گیبری سوس کا کہنا تھا کہ کرونا کا شکار ہونے والے ممالک کو عوام میں ماسک استعمال کرنے کے معاملے پر توجہ دینی چاہیئے۔ ایسے مقامات جہاں ہاتھونے یا سماجی دوری کا انتظام نہ ہوسکے وہاں پر ماسک کا استعمال ضروری ہے۔لیکن انہوں نے زور دے کر کہا کہ طبی ماسک کا وسیع پیمانے پر استعمال صحت کارکنوں کے لیے حفاظتی سامان کی کمی کو بڑھا سکتا ہے۔ ایک اور سیاق و سباق میں عالمی اداری صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے محققین کی طرف سے جاری کردہ ‘نسل پرستانہ بیانات کی مذمت کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حال ہی میں ایک ویکسن کو ‘افریقی’ ویکسن قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہی افریقا میں ایک نئی ویکسین تیار کی جا رہی ہے جسے کرونا کے خلاف استعمال کیا جا سکے گا۔ انہوں نے ویکسین کو کسی خاص خطے کے ساتھ منسوب کرنے کی شدید مذمت کی اور اسے نسل پرستانہ سوچ کا مظہر قرار دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…