منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

کرونا کی وبا نیا ورلڈ آرڈر ثابت وائرس سے ہونیوالی تباہ کاریاں عارضی نہیں بلکہ۔۔۔!!! ہنری کسنجر نے مستقبل کا خوفناک نقشہ کھینچ دیا

datetime 6  اپریل‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی)سابق امریکی وزیر خارجہ اور امریکی پالیسیوں کے ماہر ھنری کسنجر نے خبردار کیا ہے کہ کرونا کی وبا عارضی نہیں بلکہ اس کے تباہ کن معاشی معاشرتی اثرات آنے والی نسلوں میں بھی محسوس کیے جائیں گے۔

اپنے اثرات کی بناء پر کرونا کی وبا ایک نیا ورلڈ آرڈر ثابت ہوگی۔خیال رہے کہ ھنری کسنجر سابق امریکی صدور نکسن اور فورڈ کے دور میں امریکا کے وزیر خارجہ رہ چکے ہیں اور امریکی سیاست میں ان کی بات کو کافی اہمیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے کرونا کے منفی اثرات کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا کربالخصوص امریکا اور بالعموم پوری دنیا کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے خبر دار کیا کہ کرونا وائرس سے عمرانی معاہدوں کا شیرازہ بکھرتا دکھائی دے رہا ہے۔ کرونا کے بعد کی دنیا اس سے پہلے کی دنیا سے مختلف ہوگی اور میری نگاہ میں کرونا آنے والے دور میں ایک نیا ‘ورلڈ آرڈر’ ثابت ہوگا۔ امریکا اور پوری دنیا میں معاشی افراتفری پھیلنے اور بڑے پیمانے پرمعاشی تبدیلیوں کا بھی عندیہ دیا۔انہوں نے بحران سے نمٹنے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی کاوشوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کرونا کی شکل میں ایک نیا بین الاقوامی آرڈر تشکیل پا رہا ہے۔ انہوں نے کرونا کے نتیجے میں پوری دنیا میں آنے والی تبدیلیوں کے لیے تمام ممالک اور اقوام کو تیار رہنے پر زور دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…