جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

آزاد کشمیر سے مقبوضہ کشمیر جانے والی خواتین زندہ لاشیں بن گئیں، کشمیری خواتین کی فریاد

datetime 7  مارچ‬‮  2020 |

سرینگر(نیوز ڈیسک) 8 مارچ کو پوری دنیا میں یوم خواتین منایا جا رہا ہے ۔ اس موقع پر آزاد کشمیر سے بعض آبادکاری پالیسی کے تحت مقبوضہ کشمیر آئی ہوئی خواتین بھی حکومت سے فریاد کر رہی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ان پر رحم کھا کر انسانی بنیادوں پر انہیں واپس آزاد کشمیر جانے کے لئے روٹ پرمٹ فراہم کیا جائے۔ 2010 میں حکومت نے 1990 کی دہائی یا پھر اس کے بعد عسکری صفوں میں شامل ہونے یا پھر عسکری تربیت لینے،

آزاد کشمیر جانے والے افراد کی باز آبادکاری کے لئے ایک پالیسی کا اعلان کیا تھا اور اس دوران ان سے کہا گیا تھا کہ وہ گھروں کو واپس آئیں۔ اگرچہ اس دوران سرنڈر اور بازآبادکاری پالیسی کے تحت 2003 سے 22 مئی 2016 تک 489 نوجوان اپنی بیوی بچوں سمیت نیپال اور دیگر راستوں سے واپس مقبوضہ کشمیر لوٹ آئے تاہم باز آبادکاری کی پالیسی دھوکہ ثابت ہوئی اور یہاں آکر وہ دانے دانے کے محتاج ہوگئے۔ آزاد کشمیر کی رہنے والی شرین بیگم جو اس وقت اپنے بچوں اور شوہر کے ساتھ سوپور میں رہتی ہے اور ان سینکڑوں خواتین کے لئے آواز بلند کر رہی ہیں جو 2010 میں باز آبادکاری پالیسی کے تحت پاکستان یا آزاد کشمیر سے یہاں لائی گئی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ آزاد کشمیر میں ان کے اپنے اس عرصے میں فوت ہوگئے لیکن ہم فریاد کریں تو کس سے کریں کہ ہمیں اپنے وطن جانے کی اجازت دی جائے۔ شرین بیگم کہتی ہے کہ مجھے ہر روز کسی نہ کسی علاقے سے ایسی بے سہارہ اور بے بس خاتون کی روداد سننی پڑتی ہے جو دونوں اطراف کی حکومتوں کی لاپرواہی کی بھینٹ چڑھ کر اپنے آپ کو کوس رہی ہے۔ شرین بیگم کی طرح ہی مقبوضہ کشمیر کے کرناہ علاقے میں بیاہ کر لائی گئی پوش مالی بیگم کے علاوہ گزریال کی فاطمہ بیگم، کپوارہ بیاہ کر لائی گئی کوثر ابیگم، کے علاوہ رخسانہ بیگم یہ ایسی خواتین ہیں، جو اپنوں کی یاد میں دن رات آنسو بہاتی ہیں، ایسی خواتین کی یہی فریاد ہے کہ انہیں ویزا دیا جائے تاکہ وہ آزاد کشمیر میں اپنے ماں باپ اور دیگر رشتہ داروں کا ایک بار دیدار کرسکیں۔

بمنہ میں اپنے خاوند اور بیٹے کے ساتھ رہ رہی ایک پاکستانی خاتون بھی ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہے، وہ کہتی ہے کہ یہاں ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے، اپنے رشتہ داروں کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتی ہے کہ جب گھر والوں کی یاد آتی ہے تو من کرتا ہے ان سے فون پر رابطہ کروں لیکن یہاں سے وہاں فون رابطہ بھی نہیں ہوتا۔ جبکہ گھر والے مہینے میں کبھی کبھار ہی فون کر کے حال و احوال پوچھتے ہیں۔ وہ کہتی ہے کہ ہم زندہ لاشیں بن گئی ہیں اور اس طرح پانچ سو سے زیادہ خواتین جو آزاد کشمیر سے مقبوضہ کشمیر آئی ہیں، ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہو کر آزاد کشمیر میں اپنے ماں باپ اور دیگر گھر والوں کے تصور میں کھوئی رہتی ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…