ہفتہ‬‮ ، 27 جون‬‮ 2026 

آزادکشمیر کے شہری نے بجلی کے بحران کا انوکھا حل ڈھونڈ نکالا

datetime 20  جون‬‮  2015 |

مظفرآباد(نیوزڈیسک) آزادکشمیرسے تعلق رکھنے والے ارشد راشد کا خیال ہے کہ وہ پاکستان میں توانائی کے بحران کو ختم کر سکتے ہیں۔ ارشد راشد اس سلسلے میں پن چکیوں کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔آزاد کشمیر میں پن چکیوں کے نظام کو ’جندر‘ کہا جاتا ہے۔ مظفر آباد سے پچاس کلومیٹر دور واقع گاوں ’کتاہی‘ کہ باسی اسی نظام یعنی پن چکیوں کے ذریعے ہی گندم اور مکئی پیستے ہیں۔ اس علاقے کے رہائشی ارشد راشد کہتے ہیں کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جندر صدیوں سے زیر استعمال ہے اور اس میں پتھروں اور مٹی کو کاٹتے ہوئے پانی کا راستہ بنایا جاتا ہے۔ ارشد راشد کہتے ہیں کہ جندر کے ذریعے شفاف طریقےسے مفت بجلی بھی بنائی جاسکتی ہے۔ 38سالہ راشد کہتے ہیں کہ اگر ہر ایک پن چکی کو ایک چھوٹے سے ٹربائن کے ساتھ منسلک کر دیا جائے تو بجلی کی پیداوار شروع ہو جائے گی اور اس طرح لوڈشیڈنگ پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ گزشتہ کچھ برسوں سے موسم گرما کے دوران آزاد جموں و کشمیر کو بجلی کے شدید بحران کا سامنا رہتا ہے۔ آزاد جموں و کشمیرمیں پن چکیوں کے ذریعے لوگ گندم اور مکئی پیستے ہیں راشد کے بقول، ”پن چکیوں کو پانی پہنچانے والے راستے گاو¿ں کے لیے بجلی بنانے کے کام آ سکتے ہیں۔“ وہ کہتے ہیں کہ انہیں یہ خیال قریب لگے ہوئے ایک بڑے پن بجلی گھر کو دیکھ کر آیا، جس میں بڑے بڑے ٹربائن نصب ہیں۔ ”اس طرح پیدا کی جانے والی اضافی بجلی حکومت کو فروخت بھی کی جا سکتی ہے۔“آزاد جموں و کشمیر یا اے جے کے کو مسلسل توانائی کی کمی کا سامنا ہے، حالانکہ یہ علاقہ اپنی ضروریات سے زیادہ بجلی پیدا کرتا ہے۔ اے جے کے کے توانائی کے محکمے کے سیکرٹری فیاض علی عباسی کہتے ہیں، ”ہماری ضرورت تین سو میگا واٹ ہے جبکہ ہم تقریباً ساڑھے گیارہ سو میگا ووٹ بجلی پیدا کرتے ہیں۔“ ارشد راشد کے مطابق بڑے بڑے منصوبوں پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کو پن چکیاں بنانے والوں کو ان کے جندروں پر چھوٹے ٹربائن لگانے میں مدد کرنی چاہیے۔ ”اس طرح کے ایک ٹربائن پر پانچ لاکھ پاکستانی روپے تک لاگت آئے گی۔ لیکن ابھی تک ہمیں اس سلسلے میں کوئی مدد نہیں ملی۔“مظفر آباد کے ایک قریبی گاو¿ں کے مسکین قریشی نامی ایک شخص نے اپنے جندر پر خود ہی بنایا ہوا ایک ٹربائن اور بجلی کو منتقل کرنے کے لیے ایک موٹر نصب کر رکھی ہے۔ قریشی نے بتایا کہ ٹربائن نصب کرنے میں ان کے بیٹے نے ان کی مدد کی جبکہ پڑوسی گاو¿ں کے ایک رہنما نے انہیں ایک چھوٹی سی موٹر فراہم کر دی۔ وہ کہتے ہیں کہ اس ٹربائن سے پیدا ہونے والی بجلی کو تانبے کی تاروں کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ تانبہ ٹیلیفوں کی پرانی تاروں سے حاصل کیا گیا ہے۔ مسکین قریشی کے بقول گھریلو سطح پر بجلی کے اس نظام کی تنصیب پر انہوں نے پچاس ہزار روپے خرچ کئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…