جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

بی جے پی نے نفرت پھیلا کر نئی دلی میں تشدد کو ہوا دی،بھارت ظالم کے ہاتھوں میں آگیا ہے، بھارتی سیاسی جماعتوں سے بڑا مطالبہ کر دیا گیا

datetime 28  فروری‬‮  2020 |

سرینگر(این این آئی)کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسٹ) کے سینئر رہنما محمد یوسف تاریگامی نے کہا  کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے دلی میں نفرت پھیلا کر تشدد کو ہوا دی جسکی وجہ سے بڑی تعداد میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو گئیں۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق محمد یوسف تاریگامی نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ بی جے پی کی حکومت اس جج کو بھی برداشت نہیں کر سکی جس نے دلی پولیس کے

کردار پر سوال اٹھایا اور اسے تبدیل کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے تشدد کو روکنے کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کیا جسکی وجہ سے یہ پھیلتا چلا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ قوتیں ملکی عوام کو مذہب اور زبان کی بنیاد پر تقسیم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہیں اور ان قوتوں کے خلاف لڑنے کی ضرورت ہے۔ محمد یوسف تاریگامی نے بھارت کی سیکولر جماعتوں سے  اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر آگے آئیں اور لوگوں کے اعتماد کو بحال کریں۔ دریں اثنا کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ سددھار مییا نے ایک تقریب سے خطاب میں کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے تحت جمہوریت اور آئین محفوظ نہیں ہیں اور یہ جماعت سیکولرازم کے اصولوں کے منافی کا م کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی ووٹ بینک کی سیاست کیلئے فرقہ وارانہ بنیادوں پر ووٹروں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بھارت ظالم کے ہاتھوں میں آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکسانے والے بیانات کے لیے بی جے پی رہنما کپل مشرا کے خلاف تاحال کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور جب ہائی کورٹ کے جج نے اس پر سوال اٹھایا تو ان کا تبادلہ کر دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…