جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

’’ایرانی ذمے دار کرونا سے متعلق حقائق چھپا رہے ہیں‘‘  گذشتہ رات کے دوران چند گھنٹوں میں کرونا وائرس کے شکار کتنے مریضوں کی اموات ہو چکی ہیں ، میں عینی شاہد ہوں ،  ، قْم کے طبی اہل کار کا انکشاف

datetime 28  فروری‬‮  2020 |

تہران(این این آئی)ایران کے شہر قْم میں ایک ہسپتال میں کام کرنے والے میل نرس نے ایرانی ذمے داران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کرونا وائرس اور اس سے ہونے والی اموات کے حوالے سے حقائق چھپا رہے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے وڈیو کلپ میں نظر آنے والا نوجوان ایران کے شہر قْم میں کمکار ہسپتال میں بطور نرس کام کرتا ہے۔

اس نے انکشاف کیا کہ گذشتہ رات کے دوران چند گھنٹوں میں کرونا کے 8 مریض فوت ہوئے اور وہ ان اموات کا عینی شاہد ہے۔ نوجوان کے مطابق نائٹ ڈیوٹی کی شفٹ کے دوران ایک رات میں موت کا شکار ہونے والے افراد میں ایک 23 سالہ لڑکی بھی شامل ہے۔ اس لڑکی کو سابقہ کوئی بیماری لاحق نہیں تھی۔اس نے مزید بتایا کہ مرنے والوں میں 28 سے 30 سال کے درمیان کے دو نوجوان اور ایک خاتون بھی شامل ہے جس کی عمر پچاس برس سے کم تھی۔مرد نرس نے بتایا کہ اس خاتون نے اپنی موت سے آدھا گھنٹہ قبل مجھے سے بات کی اور وہ انتہائی درد اور تکلیف کا شکار تھی۔نوجوان نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا کہ ایک رات میں 8 مریض مر گئے ، یہ ذمے داران کب تک اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے اس پر پردہ ڈالتے رہیں گے ، یہ لوگ کب تک اس سنگین مرض کے ساتھ مضحکہ خیز طور سے نمٹیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…