جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

نئی دہلی میں انتہائی کشیدہ صورتحال، مسلمانوں کو پناہ دینے کیلئے سکھ برادری نے گردوارے کھول دیے

datetime 26  فروری‬‮  2020 |

نئی دہلی (نیوز ڈیسک) نئی دہلی میں مسلم کش فسادات کا سلسلہ انتہائی تشویشناک صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ مسلمانوں کی نشاندہی کرکے انہیں مارا جا رہا ہے۔ اب تک 23 سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں مذہبی بنیادوں پر دنگا فساد اور تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ شمال مشرقی دلی میں بھجن پورہ، جعفرآباد، کراول نگر، موج پور، چاند باغ اور دیال پور جیسے علاقے تشدد سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں

جہاں مسلمانوں کی آبادیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سارے معاملے پر بھارتی مصنفہ نیلنجنا رائے نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ شہر کے ایک حصے سے خبریں موصول ہوئی ہیں جہاں پر ایک گردوارے نے اپنے دروازے ہر اس شخص کے لئے کھول دیے ہیں جسے پناہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں مزید کہا کہ سلیم پور میں دلتوں نے ہجوم کے خلاف سڑکیں بند کر دیں، اپنے مسلمان ہمسایوں کو پناہ دی۔ پولیس اور سیاستدان اپنا فرض بھول گئے ہیں لیکن لوگوں کا ابھی بھی دل ہے۔ ایک اور صارف نے اپنے پیغام میں کہا کہ دہلی میں ایک گردوارے نے ہندوتوا ہجوم سے فرار ہونے والے مسلمان خاندانوں کو پناہ دی ہے۔ واضح رہے کہ انتہا پسندوں نے مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنایا۔ مساجد اور درگاہوں کی بھی بے حرمتی کی گئی، بھجن پورہ میں مزار کو نذر آتش کیا گیا، اشوک نگر میں مسجد کو آگ لگائی گئی اور مینار پر ہنومان کا جھنڈا بھی لہرا دیا گیا۔جعفر آباد میں مسلم کش قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے والی خواتین کے گرد نوجوانوں نے ہاتھوں کی زنجیر بنائی۔ نئی دہلی پولیس کے مطابق پرتشدد واقعات میں پولیس کے 56 اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ظاہرین نے کہا کہ کئی نوجوانوں کو ان کی آنکھوں کے سامنے گولی ماری گئی۔ شمال مشرقی دلی کے علاقے چاند باغ، بھجن پورہ، برج پوری، گوکولپوری اور جعفرآباد میں زخمیوں کو ہسپتال لے جانے والی ایمبولینسوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…