جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

دہلی مسلمانوں کا قتل عام، 1984 ء جیسے فسادات دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے، بھارتی عدالت نے بی جے پی رہنماؤں کے خلاف ایکشن لے لیا

datetime 26  فروری‬‮  2020 |

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) دہلی میں مسلم کش فسادات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے بی جے پی کے تین رہنماؤں کپل مشرا، انوراگ ٹھاکر اور پرویش ورما کے خلاف بھارتی ہائی کورٹ نے مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔ ایک نجی ٹی وی چینل نے بھارتی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ

امریکی صدر کی بھارت آمد کے موقع پر دہلی میں مسلم آبادیوں اور مسجد پر مشتعل ہندوؤں کے حملے اور 20 سے زائد مسلمانوں کے جاں بحق ہونے پر ہائی کورٹ میں امن و امان کے حوالے سے سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران جسٹس ایس مورالی دھر اور جسٹس تلوانت سنگھ نے پولیس اہلکاروں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 1984 ء جیسے فسادات دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ پولیس کمشنر سے ججز نے پوچھا کہ کیا آپ نے بی جے پی کے مقامی رہنماؤں کی نفرت آمیز تقاریر سنیں؟ جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کپل مشرا کی تقریر نہیں سنی۔ ججز کی ہدایت پر عدالتی عملے نے پولیس افسران کو کپل مشرا کی مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کے جذبات کو اکسانے کے لیے کی گئی تقریر دکھائی۔ جس میں تینوں رہنماؤں نے مسلمانوں کو غدار اور وطن دشمن قرار دیتے ہوئے ان کی آبادیوں اور عبادت گاہوں کو مسمار کرنے کی دھمکی دی تھی۔بی جے پی رہنماؤں کی تقریر سنانے کے بعد عدالت نے پولیس کمشنر کو حکم دیا کہ اب ان رہنماؤں کو گرفتار کرنے کے لیے آپ کے پاس کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ اس لیے فوری طور پر کپل مشرا سمیت تینوں رہنماؤں کو حراست میں لے کر مسلمانوں پر حملے میں ملوث افراد تک پہنچا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…