جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

امریکا کے صدی کی ڈیل کو تاریخ کا دھوکہ قرار

datetime 31  جنوری‬‮  2020 |

ہوانا(این این آئی)کیوبا نے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی امن منصوبے صدی کی ڈیل کو جانب دارانہ، ناقابل قبول اور تاریخ کا دھوکہ قرار دیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق کیوبا کے وزیرخارجہ  برونو روڈریگیز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکی منصوبے کے نتیجے میں اسرائیل کو فلسطینی اور عرب اراضی پر قبضے کو وسعت دینے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ فلسطینی قوم کے حقوق کی کھلے

عام پامالی اور تاریخ کا بدترین دھوکہ اور فراڈ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی قوم کے حقوق ناقبل تغیرہیں اور کیوبا بیت المقدس پر مشتمل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا۔ اس کے علاوہ کیوبا فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق اور ان کی اپنے وطن کی واپسی کے مطالبے کی بھی حمایت جاری رکھے گا۔قبل ازیںاسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سیاسی شعبے کے سابق سربراہ خالد مشعل نے مشرق وسطی کے لیے امریکا کے امن منصوبے’صدی کی ڈیل’ کے حوالے سے اردن کے اصولی اور جرات مندانہ موقف کی تحسین کی ہے۔اردن کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل سے بات کرتے ہوئے خالد مشعل نے کہا کہ شکست خورہ صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور عالمی اوباش ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے فلسطین کیلیے جو منصوبہ پیش کیااس میں فلسطین کا کوئی وجود ہی نہیں۔ اس حوالے سے اردن کا سرکاری موقف قابل تحسین ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی منصوبہ صدی کی ڈیل ناکام ہوگا اور انشا اللہ صہیونی ریاست کے زوال کا نقطہ آغاز ثابت ہوگا۔ انہوں نے امریکی سازشی منصوبے صدی کی ڈیل کو ناکام بنانے کے لیے فلسطینی قوم کی صفوں میں اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔خالد مشعل نے کہا کہ امریکا کے نام نہاد امن منصوبے سے نہ صرف فلسطینی کاز کونقصان پہنچایا گیا ہے بلکہ اردن بھی اس مکروہ سازش سے متاثر ہوگا۔ اس میں فلسطینی قوم کے حقوق کی قیمت پر اسرائیلی ریاست کے دفاع کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…