جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

امریکا کے صدی کی ڈیل کو تاریخ کا دھوکہ قرار

datetime 31  جنوری‬‮  2020 |

ہوانا(این این آئی)کیوبا نے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی امن منصوبے صدی کی ڈیل کو جانب دارانہ، ناقابل قبول اور تاریخ کا دھوکہ قرار دیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق کیوبا کے وزیرخارجہ  برونو روڈریگیز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکی منصوبے کے نتیجے میں اسرائیل کو فلسطینی اور عرب اراضی پر قبضے کو وسعت دینے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ فلسطینی قوم کے حقوق کی کھلے

عام پامالی اور تاریخ کا بدترین دھوکہ اور فراڈ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی قوم کے حقوق ناقبل تغیرہیں اور کیوبا بیت المقدس پر مشتمل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا۔ اس کے علاوہ کیوبا فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق اور ان کی اپنے وطن کی واپسی کے مطالبے کی بھی حمایت جاری رکھے گا۔قبل ازیںاسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سیاسی شعبے کے سابق سربراہ خالد مشعل نے مشرق وسطی کے لیے امریکا کے امن منصوبے’صدی کی ڈیل’ کے حوالے سے اردن کے اصولی اور جرات مندانہ موقف کی تحسین کی ہے۔اردن کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل سے بات کرتے ہوئے خالد مشعل نے کہا کہ شکست خورہ صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور عالمی اوباش ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے فلسطین کیلیے جو منصوبہ پیش کیااس میں فلسطین کا کوئی وجود ہی نہیں۔ اس حوالے سے اردن کا سرکاری موقف قابل تحسین ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی منصوبہ صدی کی ڈیل ناکام ہوگا اور انشا اللہ صہیونی ریاست کے زوال کا نقطہ آغاز ثابت ہوگا۔ انہوں نے امریکی سازشی منصوبے صدی کی ڈیل کو ناکام بنانے کے لیے فلسطینی قوم کی صفوں میں اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔خالد مشعل نے کہا کہ امریکا کے نام نہاد امن منصوبے سے نہ صرف فلسطینی کاز کونقصان پہنچایا گیا ہے بلکہ اردن بھی اس مکروہ سازش سے متاثر ہوگا۔ اس میں فلسطینی قوم کے حقوق کی قیمت پر اسرائیلی ریاست کے دفاع کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…