جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

بلیجئم کے سابق بادشاہ نے ڈی این اے میچ ہونے پر ناجائز بیٹی کو اپنا تسلیم کرلیا

datetime 30  جنوری‬‮  2020 |

بیلجئم( آن لائن )یورپی ملک بیلجیم کے سابق بادشاہ 85 سالہ البرٹ دوئم نے ایک خاتون سے اپنا ڈی این اے ٹیسٹ میچ ہونے کے بعد انہیں اپنی بیٹی تسلیم کرلیا۔بیلجیم کے سابق بادشاہ البرٹ دوئم نے خراب صحت کی وجہ سے 78 سال کی عمر میں 2013 میں تخت سے علیحدگی کی اختیار کی تھی۔

ان کی جانب سے تخت سے علیحدگی کے بعد ان کے بڑے بیٹے نے تخت سنبھالا تھا۔سابق بادشاہ نے جس 51 سالہ خاتون کو اپنی بیٹی تسلیم کرلیا انہوں نے البرٹ دوئم کے خلاف اس وقت ہی قانونی جدوجہد شروع کی تھی جب وہ تخت پر موجود تھے۔تاہم بادشاہ ہونے کی وجہ سے انہیں تمام قانونی و عدالتی کارروائیوں سے استثنیٰ حاصل تھی جس وجہ سے ان کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہیں کی گئی تھی اور نہ ہی انہوں نے اخلاقی طور پر خاتون کو اپنی بیٹی تسلیم کیا۔خراب صحت کی وجہ سے تخت چھوڑے جانے کے بعد 51 سالہ خاتون نے ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا تو عدالت نے سابق بادشاہ کو ڈی این اے کرانے کا حکم دیا۔عدالتی حکم سے قبل اور بعد میں بھی بادشاہ خاتون کو اپنی بیٹی تسلیم کرنے سے انکار کرتے رہے تاہم انہوں نے 2018 میں کرسمس کے موقع پر تسلیم کیا تھا کہ ماضی میں ان کے ایک دوسری خاتون سے  تعلقات رہے تھے۔تاہم اب ڈی این اے میچ ہونے کے بعد انہوں نے 51 سالہ کو اپنی جسمانی بیٹی کے طور پر قبول کرلیا۔ سابق بادشاہ کے وکلا اور 51 سالہ خاتون ڈیلفین بوئل کے وکلا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد دونوں کے درمیان کئی سال سے چلنے والی قانونی جنگ ختم ہوگئی۔شاہی محل سے سابق بادشاہ کے وکلا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ البرٹ دوئم نے ڈیلفین بوئل کو اپنی جسمانی بیٹی کے طور پر قبول کرلیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…