جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

ایران امریکا کشیدگی پر مذاق بھارتی پروفیسر کو مہنگا پڑگیا جوابی کارروائی کا مشورہ دینے پرسخت سزا سنا دی گئی

datetime 13  جنوری‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکا کی جانب سے ایران کو دی گئی دھمکی پر بھارتی نژاد امریکی پروفیسر کے مذاق میں ایران کو جوابی کارروائی کا مشورہ دینے پر نوکری سے ہاتھ دھونا پڑ گیا۔بھارتی ویب سائٹ کے مطابق بھارتی نژاد امریکی پروفیسر اشین فانسے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں  نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی

جانب سے ایران کو دی گئی دھمکی کے رد عمل میں لکھا کہ ایران کو بھی جوابی کارروائی میں امریکا کے 52 مقامات کو بم سے نشانہ بنانا چاہیے، جیسا کہ امریکی شاپنگ مالز یا اداکارہ کم کارڈیشان کا گھر ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اس پوسٹ پر کالج کی جانب سے پروفیسر کو یہ کہہ کر فارغ کر دیا گیا تھا کہ ان کا فیس بک پر اس قسم کا بیان دینا ان کی ذاتی رائے ہے، کالج کا اس پوسٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق کالج میں پروفیسر اور ایک ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دینے والیپروفیسر نے بعد ازاں اپنی اس پوسٹ کو ایک نا مناسب طنز قرار دیتے ہوئے معافی بھی مانگی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے ایک دوست کے ساتھ فیس بک پر بس ایک مذاق میں یہ پوسٹ کی تھی، میری پوسٹ کو غلط رنگ دیاگیا ہے، میں امید کرتا ہوں کہ کالج انتظامیہ اس معاملے پر نظر ثانی کرے گی جس پر کالج نے اپنا موقف اختیار کرتے ہوئے کہاکہ کالج ہر طرح کے نفرت پھیلانے والے اور دھمکی آمیز الفاظوں اور ارادوں کی مذمت کرتا ہے ۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…