جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

مکہ اورمدینہ کے درمیان واقع وہ مقام جو دنیا بھر کے زائرین کیلئے توجہ کا مرکز بن گیا یہ مقام کونسا ہے جس پر قرآن پاک کی آیت کریمہ بھی نازل ہوئی ؟ جانئے

datetime 22  دسمبر‬‮  2019 |

ریاض (این این آئی)مدینہ منورہ میں تاریخی مسجد قباء اس وقت پوری دنیا کے مسلمانوں کی توجہ کا خاص مرکز ہے۔ دنیا بھر سے عمرہ کی ادائی یا سیاحتی ویزے پرآنے غیر ملکی سیاح مسجد قبا میں اپنی حاضری یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہاں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو

زندہ کرنے کے لیے نوافل ادا کرتے اور عبادت کرکے ڈھیروں ثواب کماتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتے کے روز کبھی پیدل اور کبھی سواری پر سوار ہوکر اس مسجد میں جاتے اور نماز ادا فرماتے تھے۔خیال رہے کہ مسجد قبا اسلامی تاریخ کی سب سے پہلی مسجد ہے جسے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کبار نے ہجرت مدینہ کے موقع پر مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد تعمیر فرمایا۔ مسجد قبا کی تعمیرمیں آپ صحابہ کرام کے ساتھ خود پتھر اور گارا اٹھا کر لاتے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ وہی مسجد ہے جس کے بارے میں قرآن کی  آیت بھی نازل  ہوئی۔ مستند احادیث میں وارد ہے کہ اگر کوئی مسلمان مسجد قبا میں دو رکعتیں فرض یا نفل ادا کرتا ہے تو اس کے نامہ اعمال میں ایک مقبول عمرے کا ثواب لکھا جائے گا۔مسجد قبا مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کو ملانے والی شاہراہ ھجرت پر واقع ہے۔ مسجد قبا مسجد نبوی سے جنوب میں ساڑھے تین کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی نے مسجد قبا کی تازہ تصاویر جاری کی ہیں جن میں مسجد میں آنے والے زائرین کی بڑی تعداد دیکھی جا سکتی ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…