جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

بھارت میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک پر مبنی بل کی منظوری کیخلاف احتجاج،ہنگامے پھوٹ پڑے ،پارلیمنٹ میں بھی احتجاج،اسد الدین اویسی نے اسمبلی میں کیا کیا ؟

datetime 10  دسمبر‬‮  2019 |

نئی دہلی(اے این این ) بھارت میں مودی کی انتہا پسند حکومت نے مسلمانوں سے امتیازی سلوک پر مبنی شہریت کا متنازع بل منظور کرلیا جس کے خلاف بھارت میں اور بیرون ملک شدید احتجاج جاری ہے۔بھارتی پارلیمنٹ لوک سبھا میں تارکین وطن کو بھارت کی شہریت دینے کا متنازع بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا جس کے تحت مسلمانوں کے سوا 6 مذاہب کے غیرقانونی تارکین وطن کو

بھارتی شہریت دی جائے گی۔بل کی منظوری کیخلاف بھارت میں شہریوں کی جانب سے مظاہرے کیے جارہے ہیں۔ آسام، ارونا چل پردیش، میزورام، ناگالینڈ، تری پورا سمیت مختلف ریاستوں میں ہڑتال کی جارہی ہے۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کیا۔ انہوں نے ٹائر نذر آتش کیے اور سڑکیں بلاک کردیں۔کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ شہریت کا بل بھارتی آئین پر حملہ ہے، جو شخص بھی اس کی حمایت کرتا ہے وہ ہماری قوم کی بنیاد کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس پر حملہ کر رہا ہے۔‎امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی نے بھی بل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ پر بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ پر پابندیاں لگانے کے لیے زور دیا ہے۔ امریکا کے فیڈرل کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی نے کہا کہ ترمیمی بل غلط سمت میں خطرناک قدم ہے جس میں مذہب کی بنیاد پرمسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا۔بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے حزب اختلاف کے شدید احتجاج کے باوجود متنازع بل پیش کیا جس کے حق میں 311 اور مخالفت میں 80 ووٹ ڈالے گئے۔ بل کے تحت پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کے ہندووں سمیت دیگر اقلیتوں کو بھارتی شہریت دی جائے گی۔امیت شاہ نے کہا کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان مسلمان ممالک ہیں جہاں وہ رہ سکتے ہیں، اس لئے اس بل کا فائدہ انہیں نہیں ملے گا۔ کانگریس نے بل پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی اور بی جے پی نے بھارت کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کردیا ہے۔حیدر آباد سے رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے بل کی کاپی پھاڑتے ہوئے کہ بل میں مسلمانوں کو شامل نہ کرنے سے انھیں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر یہ بتایا جائے کہ مسلمانوں کے خلاف اتنی نفرت کیوں ہے اور بی جے پی کا اس بل کا مقصد بنگالی ہندوں کے ووٹ حاصل کرنا ہے۔رکن پارلیمنٹ ششی تھرورنے کہا کہ پارلیمنٹ کو ایسے بل پر بحث کا حق نہیں ہے، یہ ہندوستان کی جمہوری اقداراور آئین کی خلاف ورزی ہے، کیا ہماری قوم کی تعمیر مذہب کی بنیاد پر ہوگی۔ کانگریس کے رہنما ادھیر رنجن چودھری نے بھی اس بل کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…