لندن(نیوزڈیسک)ایک برطانوی جائزہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسکولوں میں اساتذہ ٹیکنالوجی کی رفتار کے ساتھ قدم ملا کر چلنے میں دقت کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ ٹیک کی مہارتیں سیکھنے میں بھی اساتذہ کی جانب سے دلچسپی ظاہر نہیں کی گئی۔آئی سی ٹی کاروبار ‘ڈیزی گروپ’ کی قیادت میں کیے جانے والے اس سروے سے پتہ چلا کہ اسکولوں میں ٹیکنالوجی سے متعلقہ مسائل کےحوالے سے ہیڈ ٹیچروں کے لیے بڑا مسئلہ سائبر بلئنگ یا انٹرنیٹ گرومنگ نہیں تھی بلکہ اساتذہ کی بڑی تعداد کی طرف سے ٹیکنالوجی کے استعمال کے مسائل تھے۔اسکولوں میں ٹیک سے متعلق مسائل کے بارے میں ادارے نے برطانیہ بھر سے تعلیمی رہنماو¿ں کا انٹرویو کیا۔ جن میں سے دو تہائی ہیڈ ٹیچرز نے اعتراف کیا کہ ان کے اسکولوں میں بڑی تعداد میں اساتذہ ڈیجیٹل سے متعلق مطالبات کو پورا کرنے کی ذمہ داریوں کےحوالے سے جدوجہد کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 30 فیصد اساتذہ جن سے سوالات پوچھے گئے، بتایا کہ وہ ٹیکنالوجی کے بارے میں اتنی معلومات نہیں رکھتے تھے، جتنی ان کے پاس ہونی ضروری تھی۔36 فیصد نے بتایا کہ وہ آئی سی ٹی کے کچھ حصوں میں مہارت رکھتے ہیں، اور کچھ میں وہ کمزور ہیں۔ایک تہائی اساتذہ کا کہنا تھا کہ وہ ماڈرن ٹیکنالوجی کے بارے میں کافی زیادہ معلومات رکھتے ہیں اور اپنے کام کو اچھے طریقے سے انجام دینے کے قابل ہیں۔تاہم اسکولوں کو متاثر کرنے والے ٹیکنالوجی کے مسائل کے حوالے سے 44 فیصد شرکاء نے بتایا کہ ان کے اسکولوں میں نئے ٹیکنالوجی کے آلات موجود ہیں لیکن اساتذہ غیر تربیت یافتہ ہونے کی وجہ سے ان کے استعمال میں جدوجہد کر رہے ہیں۔ایک تہائی سے زائد شرکائ کا کہنا تھا کہ اسکولوں میں بنیادی ڈھانچے کے مسائل ہیں اور اکثر اسکولوں میں انٹرنیٹ سست رفتار یا تغیر پذیر ہے۔اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کرسٹوفر ہائی اسکول ایکرنگٹن کے ہیڈ ٹیچر رچرڈ جونز نے کہا کہ ‘اساتذہ کے لیے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے میں مہارت رکھنی چاہیئے، اس کے لیے ان کا آئی ٹی میں ماہر ہونا ضروری نہیں ہے۔’ہیڈ ٹیچر جونز نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ ‘میں قدامت پسند خیالات رکھتا ہوں لیکن کسی بھی کلاس روم میں سب سے طاقتور اور با اثر وسائل ایک استاد ہوتا ہے’۔انھوں نے کہا کہ اساتذہ آئی ٹی کی سہولیات کے تکنیکی ماہرین نہیں ہیں انھیں ایک متاثر کن رول ماڈل کی حیثیت سے کام کرنا چاہیئے۔ایک تعلیم بالغان کے فلاحی ادارے’ نائیس’ کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں ادھیڑ عمر سے لے کر عمر رسیدہ افراد تعلیم و تربیت میں کم حصہ لیتے ہیں خاص طور پر ڈیجٹل مہارت سیکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔ادارے کا کہنا ہے کہ ملک میں ایک تہائی سے کم 55 سے 64 برس کے افراد سیکھنے میں ملوث ہیں، لیکن اس عمر کے زیادہ تر لوگ ڈیجٹل مہارت نہیں رکھتے ہیں۔ادارے کی جانب سے دلیل پیش کی گئی ہے، ایک ایسے وقت میں جب لوگوں کو بڑی عمر تک روزگار میں رہنے کی ضرورت ہے، وہ ملازمت پر برقرار رہنے کے لیے ضروری ڈیجٹل قابلیت سے محروم ہیں۔
برطانیہ میں عمررسیدہ افراد کوآئی ٹی کاعلم نہیں ہے ،رپورٹ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)
-
سعودی عرب کا پاکستانی شہریت ترک کرنے والوں کے لیے بڑا اعلان
-
اسلام آباد میں 258 چینی شہری گرفتار
-
بارشوں کے نئے اسپیل کی پیشگوئی، گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
-
منشیات کیس: عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کر دیا
-
سابق کرکٹر عاقب جاوید کی بیٹی کی برطانیہ میں شادی، تصاویر وائرل
-
حکومت کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
معروف ٹک ٹاکر وکیل میاں بلال عبداللہ گرفتار
-
ربیع الاول کے چاند سے متعلق اعلان ہوگیا
-
مسلسل تیزی کو بریک لگ گئی، سونے کی قیمتوں میں کمی
-
رخصتی گھر سے کریں گے، والد نے پسند کی شادی کرنے والی بیٹی کو گھر لے جا کر مار دیا
-
پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس میں مزید اہم انکشافات سامنے آگئے
-
سرکاری ملازمین کا جی پی فنڈ کتنا ہوگا؟ نوٹیفکیشن جاری
-
پاکستان ٹیم کے دورہ انگلینڈ کے شیڈول میں تبدیلی



















































