اسلام آباد(نیوزڈیسک )نادرا) نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ 2013ء کے انتخابات کی جاری انکوائری کے حوالے سے وہ حکومت کے دباو¿ میں آگیا ہے۔نادرا نے پاکستان تحریک انصاف پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایک گمراہ کن مہم کے ذریعے اس پر دباو ڈال رہی ہے۔ نادرا کے ایک ترجمان نے بتایا ”پی ٹی آئی کی قیادت نادرا اور اس کے چیئرمین پر دباو ڈال رہی ہے۔ اس نے موقع کا استعمال کرتے ہوئے نادرا کے ملازمین کی یونین کے اراکین کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں، اور انہیں دھرنوں اور رجسٹریشن کے مراکز کو بند کرنے پر اکسایا ہے۔“انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما انتخابی انکوائری کمیشن کی کارروائی پر اکثر اپنی توجہ مرکوز نہیں کرتے۔ان کا کہنا تھا کہ ”پی ٹی آئی کی ترجمان شیریں مزاری بذاتِ خود اس کمیشن کے طویل اجلاس کے دوران سوتی ہوئی پائی گئی تھیں۔“اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہ نادرا کے چیئرمین نے اس کمیشن کے ایک رکن سے نظریں نہیں ملاسکے تھے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ نادرا کے چیئرمین نے کامیابی کے ساتھ تین گھنٹوں سے زیادہ عرصے میں مذکورہ جج کے سامنے اپنے دفاع میں ایک رپورٹ پیش کی تھی۔انہوں نے کہا ”صرف ایک موقع پر دونوں فریقین کی جانب سے طویل سوالات کے دوران نادرا کے چیئرمین کو فاضل جج کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ ان سے نظریں ملاکر بات کریں۔“نادرا کے ترجمان نے نادرا کی جانب سے جمع کرائی گئی ایک ضمنی رپورٹ کے بارے میں پی ٹی آئی کی جانب سے پیدا کی گئی غلط فہمیوں کو بھی دور کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ نادرا ایک آئینی ادارہ ہے اور اب تک اس کی جانب سےٹریبیونلز کو جمع کرائی گئی 39 سے زیادہ انتخابی حلقوں کی رپورٹوں میں نہ تو کسی کو ملوث کیا گیا ہے اور نہ کسی پارٹی کو بری کیا گیا ہے۔نادرا کے ترجمان نے کہا ”ضمنی رپورٹ انتخابی ٹریبیونل کو دونوں جماعتوں کے وکیلوں کی درخواستوں پر جمع کرائی گئی تھی۔ تاہم کارروائی کےد وران جب پی ٹی آئی کے وکیل نے اس بات سے انکار کیا کہ انہوں نے ضمنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے نادرا سے درخواست کی تھی تو نادرا کے چیئرمین نے پی ٹی آئی کے وکیل کی درخواست پر مبنی ایک خط فاضل جج کے سامنے پیش کردیا تھا۔“انہوں نے کہا ”جج نے تسلیم کیا کہ یہ ان کی موجودگی میں دیا گیا تھا، اور اب اسے سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنادیا گیا ہے۔“نادرا کے ترجمان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وکلاء پر عدالت میں نصف حقیقت بیان کرنے پر قانونی کارروائی شروع کی جاسکتی ہے۔جبکہ تحریک انصاف کے ایک رہنما نعیم الحق نے نادرا کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کے سربراہ کی پریشانی واضح تھی، اس لیے کہ ان پر ”حکومت کی جانب سے دباو¿ تھا۔“انہوں نے کہا ”نادرا خود اپنی رپورٹ کو مفروضوں پر مبنی قرار دے چکا ہے۔ این اے-122 کے بارے میں ایک ضمنی رپورٹ انتخابی ٹریبیونل کو جمع کرائی گئی ہے۔ یہ غیرواضح رپورٹ نادرا کی ساکھ پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔“
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں
-
محکمہ موسمیات نے پہلے روزے سے متعلق پیشگوئی کر دی
-
ٹیلی نار کمپنی کا کروڑوں لوگوں سے تاریخی فراڈ
-
بابراعظم اور شاہین آفریدی کی چھٹی
-
خاتون افسر کو قیدی کیساتھ جنسی تعلقات استوار کرنے پر قید کی سزا
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
لاہور میں رشتہ دکھانے کے بہانے 2 سگی بہنوں کو 3 ملزمان نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
-
انجینئر محمد علی مرزا پر اکیڈمی میں حملہ
-
بینکوں سے لین دین کرنے والوں کیلئے اہم خبر
-
،ویلنٹائن ڈے کے روز کار سے نوجوان جوڑے کی لاشیں پراسرار حالت میں برآمد
-
پاکستان کے خلاف جیت کے باوجود بھارتی کھلاڑی آپس میں لڑ پڑے، ویڈیو وائرل
-
محکمہ موسمیات کی مغربی لہر کے زیر اثر گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
-
لاہور میں خاتون کو ہراساں کرنے والے رکشہ ڈرائیورکے نیفے میں پستول چل گیا
-
شاہد آفریدی اپنے داماد شاہین آفریدی پر شدید برہم



















































