جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ماحولیاتی آلودگی کو نہ روکا گیا تو انسانیت کیلئے کتنا بڑا خطرہ ہے ؟ اس کی روک تھام سےسالانہ کتنےلاکھوں جانیں بچائی جا سکتی ہیں، عالمی ادارہ صحت نے خبردار کر دیا

datetime 4  دسمبر‬‮  2019 |

میڈرڈ( آن لائن )عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے تاہم ان بیماریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فنڈز کی قلت کا بھی سامنا ہے ڈبلیو ایچ او کے مطابق ماحولیاتی آلودگی کم کرنے سے سالانہ 10 لاکھ جانیں بچائی جا سکتی ہیں. اسپین کے شہر میڈرڈ میں ماحولیاتی کانفرنس سے ایک روز قبل جاری کی گئی رپورٹ میں ڈبلیو ایچ اے کا کہنا ہے کہ

موسم کی شدت اور مچھر سے جنم لینے والی بیماریاں پوری دنیا میں عام ہیں ادارے نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ گرمی میں اضافے کا سبب بننے والی کاربن گیسوں کا اخراج کم کر کے سالانہ لاکھوں افراد کی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں.ڈبلیو ایچ او کی ڈائریکٹر برائے ماحولیاتی تبدیلیاں ماریہ نیرا کا کہنا ہے کہ فضا میں پائی جانے والی آلودگی سے ہمارے پھیپھڑے، گردے اور دل براہ راست متاثر ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے صحت پر پڑنے والے اثرات کی روک تھام کے لیے عالمی سطح پر صرف ایک فی صد رقم خرچ کی جاتی ہے جو ناکافی ہے. اس سے قبل ماہرین ماحولیات نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ فضائی آلودگی کا سبب بننے والی گرین ہاس گیسز کے گزشتہ سال ریکارڈ اخراج کے باعث موجودہ صدی میں عالمی درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہیڈبلیو ایچ او کے ماہرین کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں کے صحت پر پڑنے والے اثرات 21 ویں صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہے عالمی ادارہ صحت کے ماہر کیمبیل لینڈرم کا کہنا ہے کہ کاربن کے اخراج سے ہمیں غذا اور پانی کی کمی جبکہ ہوا میں آلودگی جیسے مسائل کا سامنا رہے گا.کیمبل کے مطابق فصلوں کی باقیات کو جلانا فضائی آلودگی میں اضافے کا سب سے بڑا سبب ہے انہوں نے بتایا کہ سالانہ 70 لاکھ افراد کسی نہ کسی وجہ سے فضائی آلودگی کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں. عالمی ادارہ صحت کے مطابق 101 ممالک نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے صحت پر پڑنے والے اثرات پر ڈبلیو ایچ او کو جواب دیا ہے البتہ امریکہ اور بھارت سمیت اب بھی دنیا کے بہت سے بڑے ممالک نے اس پر اپنا ردعمل ظاہر نہیں کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…