بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب کے انسانی حقوق کمیشن نے نسلی امتیاز کو جرم قرار دینے کی سفارش کردی

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب کے ہیومن رائٹس کمیشن نے نسلی امتیاز کو کو جرم قرار دینے والے قانون کے نفاذ کی سفارش کی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کے انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ مملکت کا قانون انسانی مساوات،انسانی حقوق کے احترام، بنیادی شہری آزادیوں روا داری اور قومی یکجہتی کے تحفظ پر زور دیتا ہے۔کمیشن نے

اس بات پر زور دیا کہ اسلامی شریعت حقوق اور فرائض میں انصاف اور مساوات کی پابند ہے۔ ریاست نے نسلی امتیاز کے مسئلے کو متعدد ضوابط اور قانون سازی کے نفاذ کے ذریعہ ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ریاست کے دستور کے آرٹیکل 8 کے مطابق ملک میں نظام حکومت کی بنیاد عدل وانصاف، شورائیت مساوات اور اسلامی شرعی اصولوں پر قائم ہوگی۔قانون کا آرٹیکل 47 عدلیہ کے سامنے کسی بھی امتیاز کے بغیر برابری کی ضمانت دیتا ہے۔ قانونی چارہ جوئی کے حق میں غیرملکی شہریوں اور ریاست کے باشندوں کو یکساں طور پر برابری کی ضمانت دی گئی ہے۔سول سروس قانون کے آرٹیکل 1 میں یہ بیان کیا گیا کہ سرکاری عہدے پر فائز ہونے کے لیے امیداروں کا انتخاب میرٹ پر کیا جائے گا۔کمیشن نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کے قانون کے نفاذ سے نسلی امتیاز کے خاتمے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ چونکہ سعودی عرب نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق بین الاقوامی کنونشن ، اور بین الاقوامی معاہدوں میں شامل ۔ اس لیے مملکت میں نسلی امتیاز کے کسی بھی مظہرکی کوئی گنجائش نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…