ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

بحیرہ عرب میں موجود سپر سائیکلون سمندری طوفان ’’کیار‘‘کس زبان کا لفظ ہے؟حیرت انگیز انکشاف

datetime 31  اکتوبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)بحیرہ عرب میں موجود سپر سائیکلون سمندری طوفان کیاربرمی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب چیتاہے۔اس طوفان کو یہ نام میانمار کے محکمہ موسمیات نے دیا۔ماہرین موسمیات کے مطابق میانمار کو موجودہ سمندری سائیکلون کا نام رکھنے کا حق 2004 میں ہونے والے معاہدے کے تحت ملا جس کے اس وقت 8 فریق ہیں جن میں پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا، میانمار، مالدیپ، عمان اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔

ستمبر 2004 میں ہونے والے معاہدے کے تحت شمالی بحر ہند میں واقع ان آٹھ ممالک نے اپنی اپنی پسند کے آٹھ نام تجویز کیے جو کہ یکے بعد دیگرے آنے والے سمندری طوفانوں کو تفویض کیے گئے۔مثال کے طور پر کیار کے بعد آنے والے طوفان کا نام ماہا ہوگا اور یہ نام عمان کے محکمہ موسمیات نے تجویز کیا ہے جبکہ اس کے بعد آنے والے طوفان کا نام بلبل ہوگا اور یہ نام پاکستانی محکمہ موسمیات کی اختراع ہے۔بلبل کے بعد آنے والے سمندری طوفان کا نام سری لنکا کے ماہرین نے پون تجویز کیا ہے جبکہ موجودہ لسٹ میں میں آخری نام تھائی لینڈ کا تجویز کردہ ہے اور وہ ہے ام پن ۔پاکستانی ماہرین موسمیات کے مطابق پاکستان اب تک سات سمندری طوفانوں کے نام تجویز کر چکا ہے جو کہ تاریخ میں فانوس، نرگس، لیلی، نیلم، نیلوفر، وردا اور تتلی نامی سمندری طوفان کہلائے گئے، ان کے مطابق یہ نام اس لیے دیے گئے کیونکہ ان کا تلفظ آسان ہے اور باوجود اس کے کہ سمندری طوفان تباہ کن ہوتے ہیں اپنے ناموں سے یہ کہیں سے بھی خطرناک معلوم نہیں ہوتے۔لیکن شمالی بحر ہند میں تو طوفان آتے رہیں گے اور ماہرین کے مطابق نہ صرف ان کی تعداد بلکہ ان کی شدت میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے تو لسٹ میں موجود نام ختم ہونے کے بعد کیا ہوگا ؟۔چیف میٹرولوجیکل آفیسر سردار سرفراز کے مطابق پاکستان نے آنے والے سمندری طوفانوں کے لیے مزید نام تجویز کر دیے ہیں جبکہ دیگر ممالک بھی اپنے اپنے حساب سے سمندری طوفانوں کے نام تجویز کر رہے ہیں۔ان کے مطابق لسٹ میں پہلا نام بنگلہ دیش کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے اس کے بعد انڈیا کی باری آتی ہے، پھر مالدیپ، میانمار اور عمان کے بعد پاکستان کا نمبر آتا ہے، آخر میں سری لنکا اور تھائی لینڈ اپنے اپنے نام تجویز کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…