بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام فوبیا برطانیہ میں باحجاب مسلم خواتین کی جان کو خطرہ، ان پر کیا الزام لگایا جانے لگا، سنگین دھمکیاں دے دی گئیں

datetime 23  اکتوبر‬‮  2019 |

لندن(این این آئی)برطانیہ میں حجاب پہننے والی مسلم خواتین کو خدشہ ہے کہ اسلامو فوبیا بڑھنے کی وجہ سے انہیں بھی سابقہ برطانوی رکن پارلیمنٹ جو کوکس کی طرح سڑک پر قتل کیا جاسکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ویلز سے تعلق رکھنے والی ایک مسلمان خاتون سحر نے بتایا کہ وہ حجاب پہننے کی وجہ سے خوف زدہ رہتی ہیں۔ سحر نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ ناراض سفید فام مرد اپنی نفرت کو مسلمان

خواتین تک پھیلا سکتے ہیں۔ سحر نے کہا کہ جب سے بورس جونسن نے ٹیلی گراف میں مسلمان خاتون کے لیے لیٹر بکس کا لفظ استعمال کیا ہے تب سے انہیں سفید فام شدت پسندوں کی جانب سے اسی لفظ سے پکارا جاتا ہے۔سحر کا کہنا تھا کہ ملازمت پیشہ افراد زیادہ تر سفید فام ہیں، وہ غصہ میں ہیں اور اپنا غصہ مسلم خواتین پر اتارنا چاہتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جس چیز کا مجھے سب سے زیادہ خطرہ ہے وہ جوکوکس کی طرح سڑک پر مارے جانے کا ہے۔سحر نے پروگرام کے دوران بتایا کہ بطور مسلمان خاتون کے لیے یہاں رہنا آج کل آسان نہیں، خصوصا اس وقت جب کوئی آپ کو داعش جیسی تنظیم سے تشبیہ دیتا ہو۔انہوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا خاتون سے نفرت کی ایک قسم بھی ہے، میرا مطلب ہے کہ اس کے زیادہ تر قصور وار سفید فام آدمی ہی ہیں۔اس پرگرام کے دوران ایک ویڈیو کلپ بھی چلایا گیا جس میں دیکھا جاسکتا تھا کہ ایک سفید فام خاتون، باحجاب مسلمان خاتون پر چلا رہی ہے، اسے داعش کی کارندہ قرار دے رہی ہے اور اس کے مخصوص حصے کو نقصان پہنچانے کی دھمکی بھی دے رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…