اتوار‬‮ ، 29 مارچ‬‮ 2026 

امریکا نے خاموشی سے افغانستان میں فوجیوں کی تعداد کم کر دی

datetime 22  اکتوبر‬‮  2019 |

نیو یارک (این این آئی) امریکا نے خاموشی سے افغانستان سے اپنے دو ہزار امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کی ہے، یہ تعداد میں کمی ایک سال کے دوران ہوئی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس بات کا انکشاف افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل سکاٹ ملر نے امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کیساتھ پریس کانفرنس کے دوران کیا، امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر گزشتہ روز افغانستان کے دورہ پر پہنچے تھے۔

نیوز کانفرنس کے دوران افغانستان کے قائم مقام وزیرِ دفاع اور وزارت دفاع کے اعلیٰ عہدے دار بھی موجود تھے۔ انہوں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ امریکی فوجیوں کی واپسی کا انہیں بھی علم تھا۔امریکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ فوجیوں کی تعداد میں کمی کے بارے میں افغان حکام آگاہ ہے، سینئر افغان حکام کا کہنا تھا کہ امریکی فوجیوں کی تعداد کی کمی کے بارے میں افغان حکومت نے دستخط کیے ہیں تاہم حکام نے دیگر اہم امور سمیت دیگر چیزوں پر بات کرنے سے گریزاں کیا۔امریکی فوج کے کمانڈر جنرل ملر کا کہنا تھا کہ ایک سال کے دوران افغانستان سے اپنے دو ہزار فوجیوں کی واپسی کی ہے اب افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 14 ہزار سے کم ہو کر گھٹ کر 12 ہزار رہ گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بچ رہ جانے والے 12 ہزار امریکی فوجی القاعدہ، داعش، سمیت دیگر عسکریت پسندوں کیخلاف لڑائی میں مصروف عمل کیساتھ ساتھ افغانستان کی فوج کو ٹریننگ دینے میں مصروف ہیں۔امریکی جنرل کا کہنا تھا کہ افغانستان میں قیام کا مقصد حالات پر نظر رکھنے اور عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا ہے، خطرات سے آگاہ ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ستمبر تک امریکا کے طالبان سے مذاکرات کے نو ادوار مکمل ہو چکے تھے۔ مذاکرات کے دوران طالبان کا مطالبہ رہا تھا کہ امریکا افغانستان میں موجود فوجیوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی لائے جبکہ امریکہ کا مطالبہ تھا کہ پہلے طالبان اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغانستان کی زمین کسی دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…