بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

امریکا نے خاموشی سے افغانستان میں فوجیوں کی تعداد کم کر دی

datetime 22  اکتوبر‬‮  2019 |

نیو یارک (این این آئی) امریکا نے خاموشی سے افغانستان سے اپنے دو ہزار امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کی ہے، یہ تعداد میں کمی ایک سال کے دوران ہوئی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس بات کا انکشاف افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل سکاٹ ملر نے امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کیساتھ پریس کانفرنس کے دوران کیا، امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر گزشتہ روز افغانستان کے دورہ پر پہنچے تھے۔

نیوز کانفرنس کے دوران افغانستان کے قائم مقام وزیرِ دفاع اور وزارت دفاع کے اعلیٰ عہدے دار بھی موجود تھے۔ انہوں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ امریکی فوجیوں کی واپسی کا انہیں بھی علم تھا۔امریکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ فوجیوں کی تعداد میں کمی کے بارے میں افغان حکام آگاہ ہے، سینئر افغان حکام کا کہنا تھا کہ امریکی فوجیوں کی تعداد کی کمی کے بارے میں افغان حکومت نے دستخط کیے ہیں تاہم حکام نے دیگر اہم امور سمیت دیگر چیزوں پر بات کرنے سے گریزاں کیا۔امریکی فوج کے کمانڈر جنرل ملر کا کہنا تھا کہ ایک سال کے دوران افغانستان سے اپنے دو ہزار فوجیوں کی واپسی کی ہے اب افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 14 ہزار سے کم ہو کر گھٹ کر 12 ہزار رہ گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بچ رہ جانے والے 12 ہزار امریکی فوجی القاعدہ، داعش، سمیت دیگر عسکریت پسندوں کیخلاف لڑائی میں مصروف عمل کیساتھ ساتھ افغانستان کی فوج کو ٹریننگ دینے میں مصروف ہیں۔امریکی جنرل کا کہنا تھا کہ افغانستان میں قیام کا مقصد حالات پر نظر رکھنے اور عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا ہے، خطرات سے آگاہ ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ستمبر تک امریکا کے طالبان سے مذاکرات کے نو ادوار مکمل ہو چکے تھے۔ مذاکرات کے دوران طالبان کا مطالبہ رہا تھا کہ امریکا افغانستان میں موجود فوجیوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی لائے جبکہ امریکہ کا مطالبہ تھا کہ پہلے طالبان اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغانستان کی زمین کسی دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…