بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

شدید جھلسے کرد بچے کی تصاویر پراقوام متحدہ بھی حرکت میں آگئی

datetime 20  اکتوبر‬‮  2019 |

انقرہ (این این آئی)شمال مشرقی شام میں ترکی کی فوجی کارروائی کے دوران انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور نہتے شہریوں کے خلاف مہلک ہتھیاروں کے استعمال کے واقعات نے عالمی سطح پر سخت غم وغصہ پیدا کیا ہے۔ شام میں ایک 13 سالہ کرد بچے کے ترک حکام کی

طرف سے کیے گئے حملے میں شدید طور پر جھلسے جانے کے واقعے پر اقوام متحدہ بھی حرکت میں آگئی ہے۔برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق اقوام متحدہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے معائنہ کاروں کا کہنا تھا کہ وہ اس الزام کے بعد معلومات اکٹھا کررہے ہیں کہ ترک فورسز نے رواں ہفتے کے شروع میں شام میں بچوں کے خلاف وائٹ فاسفورس کا استعمال کیا تھا۔کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ صورتحال سے آگاہ ہے اور کیمیائی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال سے متعلق معلومات اکٹھا کررہی ہے۔ اس نے مزید کہا کہ تنظیم کو ابھی تک ترک فوج کی طرف سے شہریوں کے خلاف وائٹ فاسفورس یا دیگر ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ تاہم تنظیم ان واقعات کی مکمل مانیٹرنگ کررہی ہے۔شمالی شام میں ایک بیان میں کرد ہلال احمر نے اطلاع دی ہے کہ نامعلوم ہتھیاروں سے کیے گئے حملے کے نتیجے میں فوجیوں سمیت چھ افراد کو الحسکہ کے ایک اسپتال میں لایا گیا ہے جن کے جسم بری طرح جھلسے ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ شمالی شام میں ترک فوج کی طرف سے کردوں کے خلاف آپریشن کے دوران ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔نامعلوم ہتھیاروں سے نصف درجن افراد کے جھلسے جانے کا واقعہ راس العین کے مقام پر پیش آیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…