اتوار‬‮ ، 29 مارچ‬‮ 2026 

’’جی سی سی ‘‘عسکری قیادت کی دفاع کے لیے سعودی اقدامات کی تائید

datetime 4  اکتوبر‬‮  2019 |

ریاض(این این آئی)خلیج تعاون کونسل (جی سی سی)کی عسکری قیادت نے سعودی عرب کی طرف سے مملکت کے دفاع کے لیے اٹھائے گئے دفاعی اقدامات کی تائید اور مکمل حمایت کی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق خلیجی ممالک کی عسکری قیادت کے ایک اعلی سطحی اجلاس کے بعد جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ، حملوں اور خطے کو درپیش

سلامتی کے دیگر تمام چیلنجز سے نمٹنے کے لیے خلیج کی مسلح افواج تیار ہیں۔سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ اجلاس کے اختتام پر جاری کردہ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جی سی سی ممبر ریاست پر ہونے والا کوئی بھی حملہ تمام جی سی سی ریاستوں پر حملہ تصور ہوگا۔ بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب کی جانب سے اپنے ملک کے دفاع کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی مکمل حمایت کی جائے گی۔خلیجی ممالک کی عسکری قیادت نے اجلاس میں علاقائی تیل کی تنصیبات اور سمندری تحفظ کے خلاف دھمکیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ تیل کی تنصیبات پر حملے جی سی سی ریاستوں کی سلامتی اور سلامتی کو نقصان پہنچانے کی سوچی سمجھی کوشش ہیں۔خلیج تعاون کونسل کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے جمعرات کے روز ریاض میں اپنا غیر معمولی اجلاس منعقد کیاگیا۔ یہ اجلاس سعودی عرب کی مسلح افواج کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا جس کا مقصد مشترکہ تعاون اور موجودہ علاقائی خطرات اور صورتحال پر مشاورت اور عسکری تعاون میں اضافہ کرنا ہے۔اجلاس میں متحدہ فوجی کمانڈ کی قیادت اور عسکری امور کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل نے شرکت کی۔شرکا نے سعودی عرب پر حملوں ، آئل ٹینکروں پر حملوں، جہاز رانی کی آزادی کے خطرے اور مملکت پر حالیہ حملوں پر جی سی سی کے کچھ ممالک کے رویے کی مذمت کی گئی۔انہوں نے دہشت گرد تنظیموں سمیت خطے میں ہونے والے حملوں اور دھمکیوں کی بھی مذمت کی اور اور کہا کہ خلیج کی مسلح افواج کونسل کے کسی بھی رکن ملک کو درپیش خطرے سے نمٹنے کے لیے ہرممکن مدد کریں گی۔اجلاس میں خلیجی خطے کے ممالک کی افواج کے درمیان تعاون بڑھانے اور سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…