جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

جمہوریت کے دعویدار بھارت نے کشمیر میں مارشل لاء لگا دیا،عمران خان اقوام متحدہ سے کوئی امید نہ رکھیں کیونکہ۔۔۔!،امریکی اخبار نیویارک ٹائمزکی رپورٹ،افسوسناک انکشافات

datetime 3  اکتوبر‬‮  2019 |

نیویارک (این این آئی)امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے ایڈیٹوریل بورڈ نے مسئلہ کشمیر پر اداریہ شائع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کو اب مزید نظر انداز نہیں کر سکتا اور بھارت کے اقدام نے دو جوہری طاقتوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے مقبوضہ کشمیرکیلاکھوں مظلوموں کی آواز بنتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر اداریہ شائع کردیا۔

اخبار نیلکھا کہ ہندو انتہا پسند بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کرکے چار ہزار سے زائد سیاسی رہنماؤں، وکلاء اور صحافیوں کو گرفتار کیا، ذرائع مواصلات پر مکمل پابندی لگائی اور کرفیو سمیت کشمیریوں پر مسلسل تشدد کی راہ اختیار کی۔نیویارک ٹائمز کیمطابق نریندر مودی نے اقوام متحدہ میں کشمیر کا ذکر تک نہیں کیا لیکن ہیوسٹن میں بھارتی تارکین وطن سے تقریر کے دوران اس اقدام کو مقبوضہ کشمیر کی ترقی قرار دیا جو مضحکہ خیز بات ہے، درحقیقت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویداروں نے اپنے ہی ملک میں مارشل لاء لگا رکھا ہے۔امریکی اخبار کے مطابق عمران خان کو اقوام متحدہ سے کوئی امید نہیں لگانی چاہیے کیونکہ حالیہ دہائیوں میں اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر پر کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی، سلامتی کونسل کے ارکان کے بند کمرہ اجلاس کا بھی کوئی فائدہ نہیں حاصل ہوا جس نے اجلاس ختم ہونے پر کوئی مشترکہ اعلامیہ تک جاری نہیں کیا۔نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی صدر کئی بار ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں لیکن مودی کیساتھ خوشگوار تعلقات کی وجہ سے وہ مسئلے کو ایمانداری کے ساتھ حل نہیں کرنا چاہتے، دیگر ممالک بھی بھارت جیسی بڑی مارکیٹ کو کھونا نہیں چاہتے، اس لئے وہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا ساتھ نہیں دے رہے۔امریکی اخبار نے کہا کہ اگر بھارتی وزیراعظم کا خیال کہ انہوں نے مسئلہ حل کرلیا ہے تو وہ غلط سوچ رہے ہیں، اس سے محض کشمیریوں کی زندگی اجیرن ہو رہی ہے، وادی میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بی جے پی مواصلاتی نظام بحال کرے، مگر یہ سب امیدیں ہیں جو بدقسمتی سے سچائی میں نہیں بدل سکتیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…