منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کیا پاکستان سے باہر سفر کرنا اور بھی مشکل ہونے والا ہے؟؟

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

اسلام آباد : پولیو کیسز کی تعداد میں اضافے پر فرسٹریشن کے شکار عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی بین الاقوامی صحت ریگولیشن(آئی ایچ آر) کمیٹی نے پاکستان کو انتباہ کیا ہے کہ اگر اس نے اس مرض کے خلاف آئندہ چھ ماہ کے دوران اپنی کارکردگی کو بہتر نہیں بنایا تو اس کے شہریوں کو عالمی سطح پر مزید سفری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

مگر پاکستان کے طبی سہولیات کے حکام اس انتباہ کی تردید کرتے نظر آتے ہیں جو کہ آئی ایچ آر ایمرجنسی کمیٹی کے دو سے سات نومبر تک ہونے والے اجلاس کے دوران جاری کیا گیا۔

وزیر برائے قومی صحت خدمات(این ایچ ایس) سائرہ افضل تارڑ نے ہفتہ کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان پر کوئی نئی سفری پابندیاں عائد نہیں کی جارہی ہیں جو پولیو کے پھیلاﺅ کی روک تھام کے لیے حکومت کے “ہر ممکن اقدامات” کا نتیجہ ہے۔

آئی ایچ آر مسلسل پولیو وائرس کو دیگر ممالک تک پہنچانے کے حوالے سے پاکستان کے اسٹیٹس پر تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہے، اجلاس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ عالمی سطح پر پولیو وائرس کا پھیلاﺅ 31 جولائی کے بعد بھی جاری رہا جس دوران پاکستان سے کم ازکم تین اقسام کے وائرس پڑوسی ملک افغانستان ایکسپورٹ ہوگئے۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سے وائرس کے پھیلنے کے خطرے کا 31 جولائی کے بعد سے زیادہ باریک بینی سے تجزیہ کیا جارہا ہے کیونکہ وائرس کے منتقل ہونے کی شرح کے سیزن کے دوران کیسز کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ اس کی روک تھام کے لیے ملکی سطح پر کوئی نمایاں بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔

بیان کے مطابق”اس وقت پولیو سے متاثرہ دیگر نو ریاستوں سے بین الاقوامی سطح پر وائرس کے پھیلاﺅ کا خطرہ کم ہوا ہے اور 31 جولائی کے بعد سے صرف دو ممالک صومالیہ(ایک کیس) اور افغانستان (سات کیسز، جن میں بیشتر دوسرے ملک سے آنے والے وائرس کا نتیجہ ہے) میں کیسز سامنے آئے ہیں۔

پاکستان، کیمرون، استوائی گنی اور شام کو سفارش کی گئی ہے کہ سرکاری سطح پر پولیو وائرس ٹرانسمیشن کے حوالے سے قومی پبلک ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کریں، ان ممالک کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تمام شہریوں اور طویل عرصے سے مقیم غیرملکیوں کے بیرون ملک سفر سے چار ہفتوں اور بارہ مہینے پہلے انسداد پولیو وائرس کی ویکسنیشن کو یقینی بنائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…