اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

برطانیہ میں اہلیہ اور بچوں کا نام جائیدادوں پر  صدارتی ریفرنس کا سامنا کرنے والے جسٹس قاضی فائز عیسی کی واپسی

datetime 8  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(  آن لائن) سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس کا سامنا کرنے والے جسٹس قاضی فائز عیسی آئندہ ہفتے 11 ستمبر کو سپریم کورٹ کے نئے عدالتی سال برائے 20-2019 کا آغاز ہونے پر مقدمات کی سماعت شروع کردیں گے۔جسٹس قاضی فائز عیسی سپریم کورٹ کے تین ججز پر مشتمل بینچ کی سربراہی کریں گے جس میں جسٹس مقبول باقر اور جسٹس اعجازالحسن بھی شامل ہوں گے۔

برطانیہ میں اہلیہ اور بچوں کا نام جائیدادوں پر جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس کی سپریم جوڈیشل کونسل کی سماعت شروع ہونے کے بعد انہوں نے کسی بینچ میں نہ بیٹھنے کا فیصلہ کیا تھا۔تاہم جب 3 ماہ بعد سپریم کورٹ کے نئے عدالتی سال کا آغاز آئندہ ہفتے ہونے والا ہے تو 4 بینچز زیر التوا کیسز کی سماعت کریں گے۔نئے عدالتی سال کا تصور سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پیش کیا تھا جس میں عدالتی سال کے آغاز میں تقریب کا آغاز کیا جاتا ہے اور چیف جسٹس آنے والے سال کے لیے ترجیحات بتاتے ہیں۔نئے عدالتی سال کے پہلے بینچ کی سربراہی چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ خود کریں گے جبکہ بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل شامل ہوں گے۔دوسرے عدالتی بینچ میں جسٹس گلزار احمد اور جسٹس منیب اختر، بینچ نمبر تین میں جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی محمد امین احمد جبکہ بینچ نمبر 4 کی سربراہی جسٹس قاضی فائز عیسی کریں گے۔خیال رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس قاضی فائز کے خلاف دوسرا ریفرنس مسترد کرچکی ہے تاہم صدارتی ریفرنس اب بھی زیِر التوا ہے جس کے لیے مذکورہ جج کو اظہاِر وجوہ کا نوٹس بھی بھیجا جاچکا ہے۔قبل ازیں 7 اگست کو جسٹس قاضی فائز عیسی نے سپریم کورٹ میں اپنے خلاف ریفرنس کو چیلنج کرنے کے لیے درخواست دائر کی تھی جس میں ریفرنس کو بد نیتی پر مشتمل قرار دیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…