بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر،قابض بھارتی حکام نے نماز جنازہ میں بھی لوگوں کی شرکت پر پابندی عائد کر دی،عالمی میڈیا کی رپورٹس میں  افسوسناک انکشافات

datetime 6  ستمبر‬‮  2019 |

سرینگر(این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی حکام نے نماز جمعہ کے بعد اب نماز جنازہ میں بھی لوگوں کی شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے جس کی وجہ سے وادی اس وقت غم و الم کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارت نے کشمیریوں کے سیاسی ومعاشرتی کیساتھ ساتھ اب مذہبی حقوق بھی پوری طرح سے سلب کر لیے ہیں۔

قابض انتظامیہ نے گزشتہ تین ہفتوں کے دوران سرینگر کی تاریخی جامع مسجد سمیت مقبوضہ وادی کے دیگر علاقوں کی مساجد میں لوگوں کو جمعہ کی نماز ادا نہیں کرنے دی جبکہ اب لوگوں کو جنازہ کی نمازوں میں بھی شرکت سے روک دیا گیا ہے۔لوگوں کو مذہبی فرائض سے اس لیے روکا جا رہا ہے کہ کہیں نماز جمعہ اور جنازہ کے اجتماعات بھارت مخالف مظاہروں کی شکل نہ اختیار کر لیں۔ادھر عالمی میڈیا کی رپوٹوں میں کہا گیا ہے کہ پانچ فروری کو جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کیے جانے کے بعد سے اب تک کرفیو اور دیگر پابندیوں کے باوجود اس مذموم بھارتی اقدام کیخلاف مقبوضہ علاقے میں پانچ سو سے زائد مظاہرے کے گئے۔ الجزیرہ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک سینئر بھارتی افسر نے اعتراف کیا ہے کہ کشمیری عوام میں غم و غصہ بڑھ رہا ہے اور حالات کو معمول پر لانے کی کوششیں ناکام ہوتی جا رہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی حکام نے نماز جمعہ کے بعد اب نماز جنازہ میں بھی لوگوں کی شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے جس کی وجہ سے وادی اس وقت غم و الم کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارت نے کشمیریوں کے سیاسی ومعاشرتی کیساتھ ساتھ اب مذہبی حقوق بھی پوری طرح سے سلب کر لیے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…