بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا ایل او سی پار کرنے کا اعلان ,اسلام آباد اور مظفرآباد اس مارچ کے لیے کوئی رکاوٹ پیدا نہ کریں، پیغام جاری

datetime 6  ستمبر‬‮  2019 |

مظفرآباد(آن لائن)بھارت کی قید میں موجود حریت پسند کشمیری رہنما یٰسین ملک کی قیادت کی سربراہی میں قائم تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) نے 4 اکتوبر کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی طرف پرامن آزادی مارچ کرنے کا اعلان کردیا۔ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد اور مظفرآباد کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مارچ کے لیے کوئی رکاوٹ پیدا نہ کریں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق جے کے ایل ایف کے مرکزی ترجمان محمد رفیق ڈار نے ایک پریس کانفرنس میں اس مارچ کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ ‘بھارت کے زیرقبضہ کشمیر میں محصور عوام سے اظہار یکجہتی، مقبوضہ وادی میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی طرف عالمی برادری کی توجہ دلانے اور اس مسئلے کے مستقل اور جمہوری طریقے سے ترجیحی بنیادوں پر حل کے لیے ہم نے ایک انقلابی فیصلہ کیا ہے کہ جے کے ایل ایف کے قائم مقام چیئرمین عبدالحمید بٹ کی قیادت میں بھمبر سے چھکوٹھی تک پرامن لوگوں کا آزادی کشمیر مارچ ہوگا’۔ ایل او سی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘بعدازاں ہم خونی لائن یا سیزفائر لائن جو جموں و کشمیر کو چھکوٹھی سیکٹر سے علیحدہ کرتی ہے اسے روند دیں گے’۔ترجمان نے بتایا کہ یہ فیصلہ راولپنڈی میں 30 اگست کو ہونے والی جے کے ایل ایف کی سب سے سے بااختیار ‘سپریم کونسل’ اور آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کی زونل ورکننگ کمیٹی کے مشترکہ اجلاس میں کیا گیا تھا۔جے کے ایل ایف کے ترجمان نے کہا کہ بھارت نے پوری وادی کو فوجی حراستی کیمپ میں تبدیل کردیا ہے، لوگوں کو اپنے گھروں میں محصور کردیا ہے اور مواصلاتی رابطے منقطع ہیں جبکہ مکمل لاک ڈاؤن اور کرفیو نافذ ہے۔انہوں نے کہا کہ جے کے ایل ایف کے سربراہ یٰسین ملک پہلے ہی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید تنہائی میں ہیں جبکہ حریت قیادت سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق بھی نظربند ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ان قائدین کے علاوہ شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، نور محمد کلوال، ڈاکٹر فیاض احمد، میاں عبدالقیوم، محمد یاسین خان اور ہزاروں نوجوان مختلف بھارتی جیلوں اور عقوبت خانوں میں قید ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر آزاد کشمیر کی حکومت ہمارے ساتھ 4 اکتوبر سے پہلے یا بعد میں ایل او سی کے اس پار چانے والے مارچ میں شامل ہوتی ہے تو جے کے ایل ایف قومی اتفاق رائے کی خاطر تاریخ کو دوبارہ ایڈجسٹ ۔کرنے کے لیے تیار ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…