واشنگٹن (این این آئی)امریکا کے محکمہ انصاف نے ایران کے تیل بردار سپر ٹینکر گریس اوّل کی ضبطی کے لیے وارنٹ جاری کردیے ہیں۔اس نے یہ اعلان جبل الطارق ( جبرالٹر) کے ایک جج فیصلے کے بعد کیا ہے جس میں انھوں نے تحویل میں لیے گئے ایرانی ٹینکر کو چھوڑنے کی
اجازت دے دی تھی۔امریکی محکمہ انصاف کے وارنٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ایرانی جہاز ، اس پر لدے تیل اور995,000 ڈالر کی رقم کو بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات ایکٹ ( آئی ای ای پی اے) کی خلاف ورزی کی پاداش میں ضبط کر لیا جائے۔اس نے بنک فراڈ ، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔اس نے الزام عاید کیا ہے کہ سپاہِ پاسداران انقلاب ایران نے شام کو ایرانی تیل بھیجنے کے لیے غیر قانونی طور پر امریکا کے مالیاتی نظام تک رسائی کی کوشش کی تھی۔واضح رہے کہ امریکا نے سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کو دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے۔امریکی محکمہ خزانہ کی دستاویز کے مطابق اس اسکیم میں سپاہِ پاسداران انقلاب سے وابستہ کئی ایک پارٹیاں ملوّث ہیں۔نیز گریس اوّل نے فریب دینے کے لیے ایک لمبا سمندری سفر اختیار کیا تھا۔پاسداران کی ہراول ( فرنٹ) کمپنیوں نے اس طرح تیل اور مال بردار جہازوں کے لیے مبیّنہ طور پر کروڑوں ڈالر کی رقم کو ’’مصفا‘‘ (لانڈر) کیا ہے۔تاہم اس وارنٹ کے مطابق یہ ایک محض الزام ہے اور کسی جرم کے مرتکب مجرم مدعاعلیہ کو اس وقت تک بے گناہ ہی تصور کیا جاتا ہے جب تک کہ وہ قصور وار ثابت نہ ہوجائے اور ایسے مقدمات میں قصور وار فریق کے خلاف ثبوت فراہم کرنا حکومت کی ذمے داری ہوتی ہے۔قبل ازیں جمعہ کو ایرانی حکام نے کہا تھا کہ یہ تیل بردار جہاز جبل الطارق کے جج کے فیصلے کے بعد اپنے اگلے سفر پر روانہ ہونے کی تیاری کررہا ہے۔اس آئیل ٹینکر کو جبل الطارق ہی میں برطانیہ کی شاہی بحریہ نے چھے ہفتے قبل یورپی یونین کی پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزام میں تحویل میں لے لیا تھا۔اس نے یہ کارروائی خلیج میں برطانیہ کے ایک پرچم بردار جہاز کو پکڑنے کے ردعمل میں کی تھی۔سپاہِ پاسداران نے اس برطانوی جہاز کو آبنائے ہْرمز کے نزدیک پکڑ لیا تھا۔