بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

ایٹمی جنگ کا خطرہ،بھارت کشمیر معاملے پر ذلت و رسوائی سمیٹنے کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار،مضحکہ خیز دعویٰ کردیا

datetime 16  اگست‬‮  2019 |

نئی دہلی(آن لائن) کشمیر کے معاملے میں سفارتی، سیاسی اور دفاعی محاذوں پر بے پناہ ذلت و رسوائی سمیٹنے کے بعد بھارتی سرکار بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی۔ بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے آج اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے یہ گیدڑ بھبکی دی ہے کہ بھارت حالات کو دیکھتے ہوئے ایٹمی حملہ میں پہل نہ کرنے کی اپنی پالیسی پر غور کر رہا ہے۔

راجناتھ سنگھ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ جوہری حملے میں پہل نہ کرنے کے ڈاکٹرائن پر قائم ہیں گاتاہم مستقبل کا فیصلہ حالات دیکھ کر کریں گے۔بھارتی وزیر دفاع کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اس وقت کشمیر نیوکلیئر فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔ بھارتی وزیر دفاع کے اس اشتعال انگیز بیان کے لیے عالمی امن کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت کی ہندو متعصب سرکار نے ہندو راج کے عزائم کی تکمیل کے لیے پورے برصغیر کو ایٹمی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ پوکھران وہ علاقہ ہے جس نے بھارت کو ایٹمی طاقت بنایا۔ پوکھران کا ایٹمی دھماکہ اٹل بہاری واجپائی کے جوہری عزائم کا عکاس ہے۔ بھارتی وزیر دفاع کے اس ٹویٹر بیان کو د?نیا بھر میں بہت تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے د?نیا بھر کے تھِنک ٹینکس کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ بھارت خطے کا امن و امان تباہ کرنے پر ت?ل گیا ہے۔واضح رہے کہ 1998میں بھی پوکھران میں ایٹمی دھماکے کرنے کے بعداس وقت کی واجپائی سرکار نے پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کی دھمکیاں دی تھیں۔تاہم پاکستان کی جانب سے جواباً سات ایٹمی دھماکوں کے بعد بھارتی سرکار کو سانپ س?ونگھ گیا تھا اور پاکستان کو ملیامیٹ کرنے کے بلند و بانگ دعوے ایک مستقل شرمندگی اور خاموشی میں بدل گئے تھے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…