منگل‬‮ ، 31 مارچ‬‮ 2026 

جبرالٹرکی سپریم کورٹ نے ایرانی تیل بردار جہاز کو چھوڑنے کا حکم دیدیا

datetime 16  اگست‬‮  2019 |

برسلز(این این آئی)جبرالٹر کی سپریم کورٹ نے امریکی کوششوں کے باوجود ایران کے تیل بردار جہاز کو چھوڑنے کا فیصلہ سنا دیا۔فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی پر شام میں تیل بھیجنے کے شبہ میں ایرانی آئل ٹینکر کو قبضے میں لیا گیا تھا۔عدالتی فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس انتھنی ڈیوڈلے کا کہنا تھا کہ گریس ون کو مزید قبضے میں رکھنے کا جواز نہیں بنتا۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب جبرالٹر کی حکومت نے کہا تھا کہ انہیں ایران کی جانب سے تحریری یقین دہانی کروائی گئی ہے۔جبرالٹر کے وزیراعلیٰ فیبین پیکارڈو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران نے یقین دہانی کروائی کہ گریس ون یورپین یونین کی پابندیوں والے ممالک کے لیے نہیں جائے گا، لہٰذا اب اس کی کوئی معقول وجہ نہیں بنتی کہ جہاز کو قبضے میں رکھا جائے۔عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کے اعلان سے قبل امریکا کی جانب سے آخری لمحات میں برطانوی سمندر پار علاقے جبرالٹر سے قانونی طریقے سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اس جہاز کو قبضے میں رکھے۔امریکا کی یہ درخواست جہاز کی قسمت سے متعلق عدالتی فیصلے کو موخر کرسکتی تھی تاہم جج ڈیوڈلے نے اپنے فیصلے میں کہا کہ انہیں امریکا کی جانب سے کوئی تحریری درخواست موصول نہیں ہوئی۔تاہم امریکا، جبرالٹر کے پانیوں کو چھوڑنے سے قبل ایرانی تیل بردار جہاز کے قبضے کے لیے ایک اور درخواست دائر کرسکتا ہے۔واضح رہے کہ 4 جولائی کو جبرالٹر پولیس اور برطانوی اسپیشل فورسز نے 21 لاکھ بیرل ایرانی تیل لے جانے والے جہاز گریس ون کو قبضے میں لے لیا تھا، جس کے بعد ان ممالک کے درمیان سفارتی محاذ شروع ہوگیا تھا۔ایرانی جہاز کو مبینہ طور پر جنگ زدہ ملک شام میں خام تیل لے جانے کے شبہ میں قبضے میں لیا گیا تھا کیونکہ یہ عمل یورپی یونین اور امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی تھی۔تاہم اس پر جوابی ردعمل دیتے ہوئے 19 جولائی کو آبنائے ہرمز میں برطانوی جہاز اسٹینا امپیرو کو قبضے میں لے لیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…