پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

”بلاول بھٹو نے کہا پیسے اْن سے پکڑ لو اور ووٹ نہ دو“فضل الرحمان کو ”غلط فہمی“ ہوگئی، سینٹ انتخاب میں صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد کیسے ناکام ہوئی؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 4  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر قوانین میں موجود خامیوں کو دور کرنے کیلئے تیار ہیں،بیلٹ میں ہمیں امیدوار کی صورت میں فوقیت حاصل تھی،مولانا فضل الرحمان نے ہمارے اْن کے پاس جانے کو کمزوری سمجھا،مولانا کا تو اپنے ووٹرز پر خود کنٹرول نہیں تھا،بلاول بھٹو نے جب کہا پیسے اْن سے پکڑ لو اور ووٹ نہ دو تو ہمیں دھچکا لگا، سینیٹ الیکشن میں کوئی ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوئی،

اپوزیشن سینیٹرز کے استعفوں کی بات صرف گیدڑ بھبھکیاں ہیں،اپوزیشن کے پاس اب بیچنے کو کچھ نہیں بچا، اپوزیشن دوبارہ تحریک عدم اعتماد لاتی ہے تو وہ تحریک عدم استحکام ہو گی۔اتوار کو ایک انٹرویو میں میں شبلی فراز نے کہاکہ بیلٹ میں ہمیں امیدوار کی صورت میں فوقیت حاصل تھی۔شبلی فراز نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے ہمارے اْن کے پاس جانے کو کمزوری سمجھا، مولانا کا تو اپنے ووٹرز پر خود کنٹرول نہیں تھا تو ہم نے کیا ان سے ووٹ مانگنے تھے۔انہوں نے کہا کہ مولانا نے مہمانداری کی پشتون روایات کا بھی خیال نہیں کیا، علی امین گنڈاپور نے مولانا کو گھر تک محدود کر دیا ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہاکہ بلاول بھٹو نے جب کہا کہ پیسے اْن سے پکڑ لو اور ووٹ نہ دو تو ہمیں دھچکا لگا، سینیٹ الیکشن میں کوئی ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ بلاول نے پیسوں کا بیان اس لیے دیا کیونکہ اْن کی ماضی کی قیادت ایسے کاموں میں مہارت رکھتی تھی جبکہ اپوزیشن سینیٹرز کے استعفوں کی بات صرف گیدڑ بھبھکیاں ہیں۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کے پاس اب بیچنے کو کچھ نہیں بچا، اپوزیشن دوبارہ تحریک عدم اعتماد لاتی ہے تو وہ تحریک عدم استحکام ہو گی۔سینیٹ میں قائد ایوان نے کہا کہ اگر اپوزیشن کا ایک ووٹ بھی زیادہ ہو جاتا تو یہ کبھی ہارس ٹریڈنگ کی بات نہ کرتے، سینیٹرز پر کوئی دباؤ نہیں تھا، ان پر صرف ضمیر کا دباؤ ہوتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کے جن سینیٹرز نے تحریک عدم اعتماد کے خلاف ووٹ دیا ہم انہیں نہیں جانتے،

جنہوں نے اپنی پارٹی کو ووٹ نہیں دیا انہیں کیا کسی اور نے منتخب کرایا تھا؟انہوں نے کہا کہ اداروں پر تنقید کرنے والے خود اس صورتحال کے ذمہ دارہیں، جب نااہلی سے اوپن فیلڈ چھوڑیں گے تو یہ ریاست ہے کسی نے تو ملک کو سنبھالنا ہے۔شبلی فراز نے کہا کہ عمران خان نے جب اوپن بیلٹ کی بات کی تو سب جماعتوں نے اس کی مخالفت کی تھی لیکن ہم اپوزیشن کے ساتھ مل کر قوانین میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت ہر اس قانون اور ترمیم کی حمایت کریگی جس سے نظام میں شفافیت آئے لیکن اپوزیشن قوانین میں ترامیم نہیں کرے گی کیونکہ وہ مخلص نہیں ہے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ دلی طور پر ہم کسی کو نہیں ہٹاناچاہ رہے تھے، اپوزیشن کو احساس دلانے کے لیے ڈپٹی چیئرمین کے خلاف تحریک پیش کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…