منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

یمن میں اماراتی فوج کی تعیناتی میں سعودیہ کو اعتماد میں لیا گیا،انور قرقاش

datetime 3  اگست‬‮  2019 |

ابوظہبی (این این آئی)مْتحدہ عرب امارات کے وزیرِ مْملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے کہا ہے کہ یمن میں اماراتی فوج کی دوبارہ تعیناتی سعودی عرب کے ساتھ مشورے کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔ یمن میں جاری آپریشن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ایک دوسرے کا تعاون حاصل ہے۔دونوں ملکوں کی فوجیں یمن میں امن وامان کی بحالی کے لیے شراکت کی

پالیسی پرعمل پیرا ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ٹویٹر پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں انور قرقاش نے کہا کہ یمن میں نئی دفاعی حکمت عملی کے لیے متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کو اعتماد میں لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن میں آئینی حکومت کی عمل داری کی بحالی اور ایرانی تخریب کارانہ کردار کے خلاف مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر امارات اور سعودیہ میں مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔انور قرقاش نے خلیجی ریاست قطر کی پالیسی اور اس کے ابلاغی اداروں کے منفی پروپیگنڈے کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ قطر خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے رقوم اور ذرائع ابلاغ کا استعمال کر رہا ہے۔خیال رہے کہ حال ہی میں متحدہ عرب امارات نے یمن میں دوبارہ اپنی فوج تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔گذشتہ جمعرات کو انور قرقاش نے کہا تھا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے باہمی تعلقات خراب کرنے کی سازشیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی کوئی طاقت سعودیہ اور امارات کے درمیان دراڑ نہیں ڈال سکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…