بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

مسجد نبوی میں حجاج کرام کی خدمت پر7720 افراد پر مشتمل عملہ مامور

datetime 30  جولائی  2019 |

ریاض(این این آئی)مسجد حرام اور مشاعر مقدسہ کی طرح مسجد نبوی میں بھی حجاج کرام کی خدمت کے لیے بڑی افرادی قوت تیار کی گئی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق حرمین شریفین پریزی ڈنسی کی طرف سے رواں سال مسجد نبوی میں حجاج کرام کی خدمت کے لیے 7720 افراد پر مشتمل عملہ تعینات کیا گیا ہے۔ مسجد نبوی میں آنے والے عازمین حج کی خدمت پر نہ صرف مرد حضرات پرمشتمل خدام موجود ہیں بلکہ خواتین حاجیوں کے لیے خواتین مامور کی گئی ہیں۔مسجد نبوی میں تعینات عملہ کئی طرح کیفرائض انجام دے رہا ہے۔ ان میں انجینئرنگ ، تکنیکی

امور کے ماہرین، ثقافتی،ابلاغی، سماجی امور میں رہ نمائی فراہم کرنے والے افراد کیساتھ مانیٹرنگ، نمازیوں کی رضاکارانہ رہ نمائی اور مناسک اور عبادت کے باریمیں انتظامی اور شرعی رہ نمائی فراہم کرنے کے لیے بھی عملہ تعینات ہے۔مسجد نبوی اور اس کے بیرونی احاطوں کی صفائی کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔ مسجد کے قالینوں کی دیکھ بحال، زائرین کو زمزم اور کھجوروں کی فراہمی، صفائی کے لیے تیارکردہ آلات کو تیار حالت میں رکھنا، معمر اورمعذور زائرین کی مدد اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پرحاضری کا شرف حاصل کرنے والے مسلمانوں کی دینی رہ نمائی کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…