منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

تیونس کے صدر الباجی قائد السبسی کا جنازہ، عرب سربراہان کا خراج عقیدت

datetime 28  جولائی  2019 |

تیونس سٹی (این این آئی)تیونس کے متوفی صدر الباجی قائد السبسی کی نمازِ جنازہ مسجد انس بن مالک میں ادا کرنے کے بعد انہیں الجلاز قبرستان میں سپرد خاک کردیاگیا،دارالحکومت تیونس سِٹی کی سڑکوں پر جنازے کے روٹ میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ اس موقع پر

دارالحکومت کی سڑکیں عوام سے بھری ہوئی تھیں۔السبسی کے جنازے میں کئی عالمی سربراہان نے شرکت کی جن میں فرانس کے صدر عمانوئل ماکروں اور فلسطینی صدر محمود عباس شامل ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق تیونس کے عبوری صدر محمد الناصر نے اپنے تعزیتی خطاب میں کہا کہ الباجی قائد السبسی نے ریاست میں بڑی ذمے داریاں سنبھالیں اور اپنے پیچھے انمٹ نقوش چھوڑ گئے۔ انہوں نے اپنے سیاسی کیرئر کے دوران وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ کے علاوہ پارلیمنٹ کے اسپیکر کا منصب بھی سنبھالا۔الناصر کے مطابق السبسی نے انقلاب کے بعد حکمرانی سنبھال کر پہلے پہلے جمہوری صدارتی انتخابات میں نمایاں کردار ادا کیا۔ عبوری صدر نے جمہوری طریقے سے اقتدار کی منتقلی اور ملک میں استحکام لانے میں کامیابی پر السبسی کو سراہا اور انہیں قومی وفاق کا انجینئر قرار دیا۔بعد ازاں حاضرین نے مرحوم صدر کی رحلت کے سوگ میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔اس موقع پر الجزائر کے عبوری صدر عبدالقادر بن صالح نے اپنے خطاب میں کہا کہ قائد السبسی کی وفات تیونس اور عرب دنیا کے لیے بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے مستقبل میں تیونس کے عوام کے لیے مزید ترقی اور بہبود کی تنماؤں کا اظہار کیا۔فلسطینی صدر محمود عباس نے تعزیتی خطاب میں کہا کہ عرب اور اسلامی دنیا السبسی سے محروم ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ تیونس کے عوام بورقیبہ اور السبسی کے فکری ورثے کی حفاظت کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…