بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

مصرمیں 30 ہزار بچوں کو آوارگی کا شکار ہونے سے بچانے والی باہمت خاتون نے مثال قائم کر دی

datetime 22  جولائی  2019 |

قاہرہ(این این آئی)بیلجیم سے تعلق رکھنے والی افریقی نژاد ویلویا جیکسن وہ باہمت خاتون ہیں جنہوں مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں سڑکوں پر پھرنے والے 30 ہزار سے زیادہ بچوں کو ٹھکانہ اور سکونت فراہم کی۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے 2003 میں مصر میں ایک ادارہ قائم کیا تھا۔

عرب ٹی وی کے مطابق ویلویا نے بتایا کہ وہ تین بچوں کی ماں ہیں اور دنیا بھر میں بچوں کو درپیش مسائل کو شدید طور پر محسوس کرتی ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے کے حوالے سے سال 2000 میں بیلجیم میں نمایاں اقدامات کے بارے میں سوچا۔ بعد ازاں ویلویا افریقا واپس لوٹ آئیں جس کو وہ اپنا آبائی علاقہ شمار کرتی ہیں۔ ویلویا نے واضح کیا کہ وہ بیلجیم سے کوچ کر کے قاہرہ آئیں تا کہ خود کو سڑکوں پر رہنے والے بچوں کے لیے وقف کر دیں۔ ان میں بعض بچوں کو پیدائش پر چھوڑ دیا گیا اور دیگر بہت سے ایسے ہیں جن کا کوئی خاندان نہیں۔ویلویا نے 2003 میں قاہرہ میں ایک چیریٹی ادارہ قائم کیا جو اب تک قاہرہ کی سڑکوں پر پھرنے والے 30 ہزار بچوں کو بچا چکا ہے۔ اس سلسلے میں قاہرہ کی سڑکوں پر آگاہی کے لیے دو ٹیمیں مصروف عمل ہیں۔ ان کے علاوہ ایک استقبالیہ مرکز بھی ہے جہاں ہر ماہ تقریبا 700 بچے طبی اور نفسیاتی نہگداشت کے ساتھ ساتھ بامقصد زندگی گزارنے کے واسطے تربیت بھی پاتے ہیں۔بیلجین خاتون کے مطابق ان کے ادارے کے یتیم خانے میں 1200 سے زیادہ بچے موجود ہیں۔ ان بچوں کو سڑکوں پر سے لایا جاتا ہے جن میں سے اکثر شدید نوعیت کی پیچیدگیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کی ذہن سازی اور علاج کے لیے طویل عرصہ درکار ہوتا ہے۔ویلویا کا ادارہ ان بچوں کو اْن کے گھر والوں تک دوبارہ پہنچانے پر بھی کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ سماجی یک جہتی کی وزارت کے تعاون سے ایسے گھرانوں کو بھی تلاش کیا جاتا ہے جو ان بچوں کو گود لے کر ان کے مستقبل کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں۔ ویلویا کے ادارے میں 180 مصری ملازمین اور اہل کار کام کر رہے ہیں۔ ویلویا کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ قاہرہ اور برسلز کے درمیان اپنے وقت کو مناسب طور پر تقسیم کریں اور ادارے میں حتی الامکان اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…