پیر‬‮ ، 23 مارچ‬‮ 2026 

اوباما نے امیگریشن نظام میں واضح تبدیلی کا فیصلہ کر لیا

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

واشنگٹن۔۔۔۔امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ملک کے امیگریشن نظام میں واضح تبدیلی لانے کا فیصلہ کر لیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر اوباما بعض امریکی شہریوں کے والدین کو ملک بدر ہونے سے بچانے کے پروگرام کی مدت میں اضافہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ امیگریشن کے نظام میں اصلاحات کرنے سے مجموعی طور پر امریکہ میں بغیر قانونی دستاویزات کے رہائش پذیر 50 لاکھ افراد کو فائدہ پہنچے گا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر اوباما اس منصوبے میں توسیع کرنا چاہتے ہیں جس کے تحت امریکہ میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے والے نابالغ افراد کو ملک بدر کرنے سے بچایا جا سکے۔ اس کے علاوہ منصوبے میں ان بچوں کے والدین کو بھی شامل کئے جانے کا منصوبہ ہے جو کہ امریکی شہری یا ان قانونی طور پر امریکی رہائشی ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد ملک بدری کی وجہ سے خاندانوں کو منقسم ہونے سے بچانا ہے۔ تجویز کردہ پالیسی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کون کتنے عرصے سے امریکہ میں رہائش پذیر ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر انتطامیہ منصوبے کو 10 سال سے امریکہ میں رہائش پذیر افراد تک محدود کرتی ہے تو اس صورت میں 25 لاکھ افراد کو اس سے فائدہ پہنچے گا۔ حزب اختلاف کی رپبلکن پارٹی نے اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدام صدر اوباما کے اختیارات سے باہر ہونے چاہئیں۔ سینیٹر جیف سیزنز نے کہا کہ مجوزہ اقدامات سے ملک کی عملداری کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ ایوان نمائندگان کے سپیکر اور رپبلکن جماعت کے رہنما جان بوہنیر نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اگر صدر اوباما نے یکطرفہ اقدام اٹھایا تو اس صورت میں امیگریشن اصلاحات کو کانگریس کے اندر طے کرنے کا امکان ختم ہو جائے گا۔ اپوزیشن کے علاوہ صدر اوباما کو اپنی جماعت کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے سینئر سینیٹر ہیری ریڈ نے صدر اوباما پر زور دیا ہے کہ 11 دسمبر کو کانگریس سے حکومتی بجٹ کی منظوری کے بعد ہی وہ یہ قدم اٹھائیں۔ اس سے پہلے صدر براک اوباما نے جون میں وعدہ کیا تھا کہ امیگریشن قوانین میں اصلاحات کے سلسلے میں اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کریں گے لیکن انھوں نے ستمبر میں قوانین کی حمایت کا ارادہ وسط مدتی انتخابات تک ترک کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…