واشنگٹن ۔۔۔۔امریکہ کی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول یا امراض پر قابو پانے کے مرکز کے ماہرین نے کہا ہے کہ اقوامِ عالم پہلی دفعہ پولیو کے مرض کو شکست دینے والی ہے لیکن پاکستان میں پولیو کے حوالے سے صورتِ حال پریشان کن ہے۔امریکن سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) نے کہا ہے کہ پولیو کے مرض کو عالمی سطح پر ختم کرنے میں ایک ’اہم سنگِ میل‘ عبور کیا گیا ہے۔ مرکز کے ماہرین کے خیال میں پولیو کے وائرسز کے تیسری قسم کے دوسرے وائرس کو انسدادِ پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کے ذریعے ختم کیا گیا ہے۔پولیو کی تیسری خطرناک قسم کے وائرس ٹائپ تھری گذشتہ دو سالوں میں کہیں پر بھی نہیں ملے ہیں۔ ٹائپ ٹو وائرس کو سنہ 1999 میں ختم کیا گیا تھا۔پولیو ایک خطرناک مرض ہے اور اس سے 200 میں سے ایک بچہ اپاہج ہو جاتا ہے جبکہ بعض بچے اس سے مر بھی جاتے ہیں۔ لیکن اس پر قابو پانے میں بہت پیش رفت ہوئی ہے۔پولیو کے کیسز سنہ 1988 میں ساڑھے تین لاکھ تھے جو سنہ 2013 تک کم ہو کر 416 رہ گئے تھے۔سی ڈی سی کی رپورٹ کے مطابق تیسری قسم کے وائرس کا آخری کیس نومبر سنہ 2012 میں پاکستان میں سامنے آیا تھا۔سی ڈی سی کے گلوبل ہیلتھ کے سینیئر مشیر ڈاکٹر سٹیفین کوچی نے کہا کہ ’ہم نے تیسری قسم کے دوسرے وائرس کو ختم کیا ہوگا، یہ ایک بہت بڑا سنگِ میل ہے۔‘پاکستان میں گذشتہ سال پولیو کے صرف 59 کیسز تھے اور سنہ 2014 میں یہ 236 تک پہنچ گئے ہیں
تاہم ٹائپ تھری وائرس کے ختم ہونے کا سرکاری طور پر اعلان کرنے کے لیے ایک طریق کار کی ضرورت ہوتی ہے جس میں پولیو گوبل سرٹیفیکیشن کمیشن کو شامل کرنا پڑتا ہے اور اس پر تقربیاً ایک سال سے زائد کا عرصہ لگ سکتا ہے۔پولیو کا ٹائپ ون یا پہلی قسم کا وائرس پاکستان، افغانستان اور نائجیریا میں باقاعدگی سے سامنے آتا ہے۔ڈاکٹر سٹیفین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ سب سے زیادہ چبھنے والا ہے۔ یہ وائرس سب سے زیادہ پولیو کی وبا کا باعث بنتا ہے اور اس کی وجہ سے بچے آپاہج کرنے والی پولیو مرض کا شکار ہوتے ہیں۔‘نائجیریا میں صورتِ حال بہتر ہو رہی ہے اور گذشتہ سال کے مقابلے میں یہاں پولیو کے کیسز میں کمی واقع ہوئی ہے، سنہ 2013 میں نائجیریا میں پولیو کے 53 کیسز سامنے آئے تھے جبکہ اس سال صرف چھ کیسز معلوم ہوئے ہیں۔ڈاکٹر سٹیفین نے کہا کہ ’لیکن سب سے بڑا مسئلہ پاکستان میں صورتِ حال ہے۔‘ڈاکٹر کوچی کا کہنا ہے کہ اس نقل مکانی کی وجہ سے اچھی خبر یہ ہے کہ اب ان علاقوں کے بچے پناہ گزین کیمپوں میں دستیاب ہیں جہاں انھیں پولیو سے نجات کا ٹیکہ لگایا جا رہا ہے
پاکستان میں گذشتہ سال پولیو کے صرف 59 کیسز تھے اور سنہ 2014 میں یہ 236 تک پہنچ گئے ہیں اور اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان نے تقریباً دو سال تک ویکسینیشن پروگرام کو چلنے نہیں دیا۔اور پاکستانی فوج کی جانب سے حالیہ آپریشنز کے بعد رواں سال گرمیوں میں اس علاقے سے بڑے پیمانے پر لوگوں نے نقل مکانی کی ہے۔ڈاکٹر کوچی کا کہنا ہے کہ ’اس نقل مکانی کی وجہ سے اچھی خبر یہ ہے کہ اب ان علاقوں کے بچے پناہ گزین کیمپوں میں دستیاب ہیں جہاں انھیں پولیو سے نجات کا ٹیکہ لگایا جا رہا ہے۔‘’تاہم اس کے ساتھ بری خبر یہ ہے کہ پولیو کا وائرس اس کے ساتھ پورے ملک میں پھیل گ?ا ہے اور پنجاب اور کراچی سے پولیو کے کیسز سامنے آئے ہیں۔‘جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس سے دوسرے ممالک میں بھی وائرس کے پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ وائرس پاکستان سے سنہ 2013 میں شام پہنچا تھا۔
پاکستان میں پولیو کی صورتِ حال پریشان کن ہے،امریکی ادارہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
اسکولوں میں چھٹی کا اعلان کردیا گیا
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)
-
طلبہ کےلئے خوشخبری،ہفتہ وار دو چھٹیوں کا اعلان
-
کراچی؛ فلیٹ سے ڈاکٹر، اسکی بیوی اور 3 بچوں کی لاشیں برآمد، ابتدائی تفتیش میں اہم انکشاف
-
حکومت کی ایک سال کے لیے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کی تجویز
-
حکومت کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا اعلان
-
بھارت کے امیر ترین کھلاڑی ویرات کوہلی کی مالیاتی سلطنت کی تفصیلات سامنے آ گئیں
-
عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہو گیا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان
-
شہریوں کیلئے بڑی سہولت، پاسپورٹ بنوانا مزید آسان
-
زلزلے کے جھٹکے،شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا
-
مردہ بچیوں کو قبر سے نکال کر زیادتی کرنیوالا ملزم گرفتار، خوفناک انکشافات
-
خلیجی ملک کی شہریت منسوخ، سیکڑوں لوگ اب کس ملک کی شہریت لے رہےہیں؟
-
دنیا بھر میں ایرانی ایئرلائنز کی سروس بند، نہ ٹکٹ نہ لینڈنگ کی اجازت ہوگی
-
گھی اور کوکنگ آئل کی کم از کم ریٹیل قیمتیں مقرر کردی گئیں



















































