بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

پشاور میٹرو پروجیکٹ میں ناقص میٹریل کااستعمال،غلط  منصوبہ بندی،روٹ چھوٹا بنادیاگیا، بسوں کے آپس میں ٹکرانے کا خدشہ،ہوا، ایشیائی ترقیاتی بینک نے بڑے اعتراضات اُٹھادیئے

datetime 7  جولائی  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) ایشیائی ترقیاتی بینک نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیاہے کہ پشاور میٹرو پراجیکٹ (بی آر ٹی) میں گھٹیا معیار کا مٹیریل استعمال کیا ہے جو جان ومال کے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ایشیائی ترقیاتی بینک نے اپنی چشم کشا تحقیقات میں انکشاف کیاہے کہ

خیبرپختونخوا حکومت نے 70ارب روپے کی لاگت کے پشاور میٹرو پراجیکٹ (بی آر ٹی) کے تفصیلی ڈیزائن میں ناقص تبدیلیاں کرتے ہوئے گھٹیا معیار کا مٹیریل استعمال کیا ہے جو جان ومال کے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ایشیائی بینک جس نے اس منصوبے کیلیے فنڈنگ فراہم کی ہے کی تکنیکی ٹیم نے مارچ 2019میں پروجیکٹ کی سائٹ کا معائنہ کرکے یہ رپورٹ مرتب کی ہے۔دستاویزات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک نے خبردار کیا ہے کہ بی آر ٹی کی بسیں روٹ کے اسٹیشن نمبر 10، 12، 15 اور 26 پر آپس میں ٹکرا سکتی ہیں کیونکہ لین کی چوڑائی کم از کم معیار 6.5 میٹر سے بھی کم ہے۔رپورٹ کے مطابق بی آر ٹی کے اسٹیشنز پر بسیں کھڑی کرنے کا مناسب انتظام نہیں ہے جس سے مسافروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اسٹیشنز پر نصب ٹائلز پھسلنے والی ہیں اور پیلے رنگ کی تیر کے نشان والی ٹائلز نہیں لگائی گئیں۔ پراجیکٹ پر کام کے دوران مناسب نگرانی بھی نہیں کی گئی۔ایشیائی بینک نے منصوبے کے ڈیزائن میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ بڑی خرابیوں کو دور کیا جاسکے، اس اقدام سے منصوبہ مزید تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے۔ اے ڈی بی نے عمل درآمد کے مرحلے میں منصوبے کے تفصیلی ڈیزائن میں 22 اہم خرابیوں کی نشاندہی کی ہے جس سے نہ صرف منصوبے کا معیار متاثر ہو گا بلکہ مسافروں کے زخمی ہونے کا بھی خدشہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…