اسلام آباد(نیوز ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ترسیلات زر کو کالا دھن سفید کرنے کا ذریعہ بننے سے روکنے کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترامیم کرنے کی تجاویز کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے جس کے تحت ترسیلات زر ظاہر کرنے کے لیے پاکستان سے ہنڈی اور حوالہ کے ذریعے کالا دھن بیرون ملک منتقل کرنے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔
”ایکسپریس“ کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر کے ماتحت ادارے ڈائریکٹریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو نے ایف بی آر کو رپورٹ پیش کی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹیکس سے بچنے کے لیے بعض کمپنیوں و اداروں اور ٹیکس دہندگان کی جانب سے بڑے پیمانے پر پاکستان سے ہنڈی اور حوالہ کے ذریعے بیرون ملک سرمایہ منتقل کیا جارہا ہے اور پھر اسے ترسیلات زر ظاہر کرکے واپس لایا جارہا ہے، چونکہ ترسیلات زر ظاہر کی جانے والی رقم و آمدنی کے بارے میں کسی قسم کی پوچھ گچھ نہیں کی جا سکتی اس لیے اس سہولت کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔
دستاویز میں تجویز دی گئی ہے کہ ترسیلات زر کے حوالے سے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001میں شامل شق نمبر 111کی ذیلی 4 شق میں مزید ایک ذیلی شق شامل کی جائے جس کے تحت ترسیلات زر بھجوانے کے لیے 5 اہم شرائط کو شامل کیا جائے اور ان شرائط کو پورا کرنے کے ساتھ جو ترسیلات زر پاکستان بھجوائی جاتی ہیں ان کے بارے میں ذرائع ا?مدنی نہ پوچھے جائیں تاہم جو یہ شرائط پوری کیے بغیر ٹرانزیکشن ہوتی ہیں ان کے بارے میں پوچھ گچھ ہونی چاہیے۔
دستاویز میں کہا گیاکہ مذکورہ آرڈیننس میں شامل کی جانے والی شق کے تحت یہ لازمی قراردیا جائے کہ بیرون ملک سے ترسیلات زر پاکستان بھجوانے اور پاکستان میں وہ ترسیلات زر وصول کرنے والا ایک ہی شخص ہونا چاہیے اور اگر ترسیلات زر بھجوانے والا اور وصول کرنے والا ایک ہی شخص نہیں ہے تو اس صورت میں ترسیلات زر بھجوانے والے اور ترسیلات زر وصول کرنے والے کے درمیان رشتہ ظاہر ہونا چاہیے اور دونوں کے درمیان رشتہ کا اندراج ہونا چاہیے کہ ترسیلات زر بھجوانے والے کا ترسیلات زر وصول کرنے والے کے ساتھ کیا رشتہ ہے۔
تیسری شرط یہ تجویز کی گئی ہے کہ بیرون ملک سے ترسیلات زر بھجوانے والا ترسیلات زر کا ذریعہ، کاروباری سرگرمی یا ملازمت ظاہر کرے جبکہ چوتھی شرط یہ تجویز کی گئی ہے قرض یا تحفے کی صورت میں وصول ہونے والی ترسیلات زر کے استعمال کے مقاصد ظاہر کرنے کو بھی لازمی قرار دیا جائے، اس کے علاوہ یہ بھی لازمی قرار دیا جائے کہ بیرون ملک سے جو ترسیلات زر بھجوارہا ہے وہ اپنا سوشل سیکیورٹی نمبر، ٹیکس پیئرز شناختی نمبر، قومی شناختی نمبر یا انشورنس نمبردرج کرے، اس کے علاوہ ترسیلات زر جس شخص نے وصول کرنا ہیں اس کا مکمل پتہ درج کرنے کو لازمی قراردیا جائے۔
کالا دھن ترسیلات کے ذریعے سفید کرنےکا انکشاف
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
وزیرپیٹرولیم کاپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں بارے اہم اعلان
-
دنیا کا سب سے بڑا غار
-
ایرانی ریال خریدنے والے خوش، کرنسی کی قدر میں بڑا اضافہ
-
سونا ایک بار پھر مہنگا ہوگیا
-
برطانیہ جانے کے خواہشمندوں کےلئے بڑی خبر، محفوظ اور آسان قانونی راستوں کا اعلان
-
پاکستان میں یکم جولائی سے مون سون کا آغاز،محکمہ موسمیات نے اہم پیشگوئی کر دی
-
اسلام آباد ، لاہور اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلےکے شدید جھٹکے
-
ثانیہ اشفاق کے عماد وسیم پر سنگین الزامات، عماد کا سابقہ اہلیہ کو انتباہ
-
سرگودھا: بااثر افراد کی جانب سے مبینہ زیادتی کرنے کی شکایت پر ملزمان نے بچے کو زندہ دفن کر دیا
-
مری ایکسپریس وے پر مسافر وین مکمل جل گئی
-
معطل خاتون افسر کے گھر سے کروڑوں روپے نقد، ہیرے اور سونا برآمد
-
حکومت نے ڈیزل اور پیٹرول پر لیوی میں اضافہ کردیا
-
مون سون کی آمد، ملک کے مختلف علاقوں میں یکم جولائی سے بارشوں کی پیشگوئی
-
ملکی تاریخ میں پہلی بار بڑی گاڑیوں کی درآمدات بلند ترین سطح پر پہنچ گئی



















































