منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

سفاک ماں کالا جادو کرتے ہوئے اپنے بچوں کے گلے میں رسی ڈال کر انکے جسم کو لوہے کے گرم راڈز اور موم بتیوں سے داغتی رہی،لرزہ خیز واقعہ

datetime 20  جون‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)قلعہ گجر سنگھ میں سفاک ماں کالا جادو کرتے ہوئے اپنے بچوں کے گلے میں رسی ڈال کر ان کے جسم کو لوہے کے گرم راڈز اور موم بتیوں سے داغتی رہی،پانچ سالہ مریم اور دوسالہ جارج کو جھلسی ہوئی حالت میں میو ہسپتال منتقل کردیا گیا، پولیس نے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے ماں سمیت تین خواتین کو گرفتار کر لیا۔تفصیلات کے مطابق شاہدرہ ٹاون کی رہائشی انیتا نامی خاتون اپنے دو بچوں پانچ مریم اور دو سالہ جارج کیساتھ قلعہ گجرسنگھ

پولیس لائن کے قریب کوارٹرز میں اپنے پھوپی کی طرف رہنے آئی۔ قلعہ گجر سنگھ میں انیتا نامی خاتون نے اپنے کمسن سن بچوں تین سالہ مریم اور دو سالہ جارج کے گلے میں رسی ڈال کر ان جسم کو لوہے کے گرم راڈز اور موم بیتیوں سے دا غتی رہی۔ بچوں کا والد سائمن سلیم جو سات روز بعد آیا تو والدہ نے بچوں کو رسیوں سے باند ھ رکھا تھا اور جسم بھی مختلف مقامات سے جھلساہوا تھا۔ اس نے بچوں کی حالت دیکھ کر انہیں فوری میو ہسپتال منتقل کیا۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ دونوں بچوں کا جسم مختلف حصوں سے جلا ہوا ہے، متاثرہ بچوں کے گلے پر رسیوں کے نشان موجود ہیں۔شوہر نے الزام لگایا ہے کہ اس کی بیوی نے کالا جادو سیکھنے کی کوشش میں دونوں بچوں کے جسم پر آہنی راڈ اور موم بتیوں کی مدد سے داغتی رہی۔پولیس نے والد کی درخواست پر انتیا سمیت تین خواتین کو گرفتار کر لیا ہے۔ انیتا کا کہنا ہے کہ اس کی پھوپھی کی بیٹی پر جنات کی حاضری ہوتی ہے اور انہوں نے بتایا تھاکہ تم جس گھر میں رہتی ہو وہاں پر جنات کا سایہ ہے اور تمہارے بچوں کے اندر بد روحیں ہیں۔ میں اپنے بچوں کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…