بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار قرار دیدیا گیا، 100 صفحات پر مبنی تحقیقاتی رپورٹ جاری

datetime 19  جون‬‮  2019 |

نیویارک(آن لائن)جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق اقوام متحدہ کی تشکیل کردہ ٹیم کی جانب سے جاری کی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور دیگر سینئر سعودی عہدیدار صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔ 100 صفحات پر مبنی رپورٹ پر ریاض کی جانب سے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا لیکن سعودی عرب کی جانب سے ولی عہد کی شمولیت کے الزامات کو مسترد کیا جاتا ہے۔

ماورائے عدالت قتل سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر اور تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ اگنیس کیلامارڈ نے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سعودی عرب پر عائد کی گئی پابندیوں میں توسیع کرتے ہوئے ولی عہد اور ان کے ذاتی اثاثوں کو بھی شامل کیا جائے، جب تک وہ یہ ثابت نہیں کردیتے کہ وہ اس قتل کیذمہ دار نہیں۔اگنیس کیلامارڈ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ جمال خاشقجی دانستہ، منصوبہ بندی کے تحت ماورائے عدالت قتل کا شکار ہوئے ہیں عالمی انسانی حقوق کے قانون کے تحت جس کا ذمہ دار سعودی عرب ہے۔رواں برس کے آغاز میں اگنیس کیلامارڈ نے فرانزک اور قانونی ماہرین پر مشتمل ٹیم کے ہمراہ ترکی کا دورہ کیا تھا اور کہا تھا کہ انہوں نے ترک حکام سے شواہد حاصل کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ‘ قابل اعتماد شواہد موجود ہیں جو اعلیٰ سطحی سعودی حکام سمیت ولی عہد کی قتل کی شمولیت سے متعلق مزید تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں ‘۔اگنیس کیلامارڈ نے مزید کہا کہ ‘ انسانی حقوق کی ٹیم کی انکوائری سے ظاہر ہوتا ہے کہ ولی عہد کے ذمہ دار ہونے سے ٹھوس اور قابل اعتماد شواہد موجود ہیں جو مزید تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں ‘۔انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے عالمی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔الجزیرہ کے مطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ماہر اگنیس کیلامارڈ کی جانب سے یہ رپورٹ 26 جون کو پیش کی جائے گی۔خیال رہے کہ انسانی حقوق کونسل کے 47 رکن ممالک میں سعودی عرب بھی شامل ہے۔سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات کے سخت ناقد سمجھے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ ایک برس سے امریکا میں مقیم تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…