جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

جون کے آخر تک بجٹ خسارہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح28 کھرب تک پہنچ جائیگا : صدر ایران پاک فیڈریشن

datetime 12  مئی‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی )ایران پاک فیڈریشن آف کلچر اینڈ ٹریڈ کے صدر خواجہ حبیب الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کا مالی عدم توازن روز بروز بدتر ہو تا جا رہا ہے ،ایف بی آر کے ریونیو میں450 ارب کی کمی کے باعث رواں سال جون کے آخر تک بجٹ خسارہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح28

کھرب تک پہنچ جائے گا ،ٹیکسوں کا اضافی بوجھ معیشت کو مزید نقصان پہنچائے گا،ریکارڈ خسارہ اور کرنسی کی قدر میں غیر معمولی کمی کی وجہ سے ہمارا قومی قرضہ90ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے ،حکومت منصوبہ بندی کے تحت اقدامات کرے تو ملک میں ٹیکس گزاروں کی تعداد فوری طور ایک کروڑ سے بڑھ سکتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائشگاہ پر جنوبی پنجاب کے صنعتکاروں کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کیا۔خواجہ حبیب الرحمان نے کہا کہ پا کستان کااصل مسئلہ اقتصادی نہیں تجارتی ہے،برآمدات میں اضافہ نہ ہونا سارے مسائل کی جڑ ہے ۔شرح نمو میں کمی کی سب سے بڑی وجہ زرعی شعبہ ہے جس کی ترقی کی رفتار محض اعشاریہ 85فیصد رہی ۔ دوسری طرف پنجاب حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث رواں سال گندم کا قحط بھی پڑ سکتا ہے۔حکومت کے خریداری مراکز ویران پڑے ہیں،سندھ ،بلو چستان اور افغانستان کے بیوپاری کسان سے برائے راست سرکاری قیمت سے بھی زیادہ قیمت پر گندم خرید رہے ہیں جس سے آنے والے مہینوں میں آٹے کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنی معاشی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کیلئے خوف و ہراس پھیلانے اور ڈنڈا پالیسی کی بجائے ٹیکس گزاروں کو عزت و احترام دینے اور خصوصاًٹیکسز کی شرح میں کمی کی پالیسی کا نفاذ نا گزیر ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…