جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اقتصادی بحران کے باعث لبنان کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ

datetime 8  مئی‬‮  2019 |

بیروت(این این آئی)مشرق وسطیٰ کا ملک لبنان ان دنوں شدید اقتصادی بحران میں گھرا ہے۔ لبنانی وزیراعظم سعد الحریری نے کہا ہے کہ بلاشبہ لبنان کو اقتصادی بحران بیشک درپیش ہے لیکن ملک کے دیوالیہ ہونے کا کوئی امکان نہیں، اصلاحات سے مسئلہ حل ہو جائے گا ۔

بعض سیاستدان اقتصادی تجزیہ کار اور مالیاتی ادارے لبنان کے اقتصادی حالات کا مختلف منظر نامہ پیش کر رہے ہیں۔سرسری سی نظر ڈالنے سے لبنان کا اقتصادی منظر نامہ دھندلایا ہوا نظر آرہا ہے ۔ عالمی بینک نے رپورٹ دی ہے کہ لبنان کی معیشت کا بنیادی ڈھانچہ مخدوش ہے۔شامی بحران کے حل سے اس کی لاٹری نہیں کھلے گی بلکہ شام کے بحران نے لبنانی معیشت کو مزید بگاڑ دیا ہے ۔لبنان کے ایک بڑے حلقے کو ملک کے دیوالیہ ہونے کا بہت خدشہ ہے۔ اس کی دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ لبنان کا توازن و تجارت خسارے سے دوچار ہے۔لبنان کو قومی قرضوں کا سود چکانے کیلئے سالانہ 20ارب ڈالرز سے زیادہ کا قرضہ لینا پڑ رہا ہے۔گذشتہ 3برسوں میں شرح نمو صرف ایک فیصد سے دو فیصد تک رہی ۔اس کے علاوہ دیگر ممالک میں برسرِ روزگار لبنان تارکین کی جانب سے ترسیلات زر میں بھی مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔سعودی عرب اور خلیجی ممالک ماضی میں لبنان کی اچھی خاصی مالی امداد کیا کرتے تھے لیکن اب ان ملکوں نے بھی ہاتھ کھینچ لیا ہے، اس سے لبنانی معیشت مزید مشکل صورتحال سے دوچار ہو گئی ہے۔لبنانی حکومت اقتصادی اصلاحات کی بات تو کر رہی ہے تاہم عملی اقدامات اور خارجی امداد لانے سے قاصر نظر آرہی ہے۔خدشات یہ بھی ہیں کہ سیاسی بحران اپریل میں ہونے والی مجوزہ پیرس کانفرنس کے عالمی شرکاء کو 11ارب ڈالرز دینے کا وعدہ پورا کرنے سے روک دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…