ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان کئی نکات پر ڈیڈ لاک برقرار،کس اہم پالیسی پر ڈیڈ لاک ہے، میڈیا رپورٹس میں انکشاف

datetime 1  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کے کئی نکات پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ آئی ایم ایف نے روپے کی قدر کو کنٹرول نہ کرنے اور شرح سود بڑھانے کی شرائط رکھی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کا آئی ایم ایف سے مذاکرات میں مانیٹری پالیسی پر ڈیڈ لاک ہے، آئی ایم ایف نے روپے کی قدر کو کنٹرول نہ کرنے اور شرح سود بڑھانے کی شرائط رکھی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف توانائی اور دوسرے شعبوں پر سبسڈیز ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، اس کے علاوہ آئی ایم ایف سے ٹیکسوں میں اضافے

پر بھی اختلاف ہیں۔ذرائع کے مطابق پاکستان نے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4600 ارب روپے مقرر کرنے کا کہا ہے لیکن آئی ایم ایف ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5200 ارب روپے سے 5300 ارب روپے کے درمیان چاہتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت خزانہ اختلافی نکات پر آئی ایم ایف کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔خیال رہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم قرض پروگرام پر مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں موجود ہے اور آج مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے آئی ایم ایف سے مذاکرات میں کامیابی کے لیے پرامید ہونے کا اظہار کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…